اسلام آباد میں کوئی نیا صوبہ نہیں بن رہا، حیثیت برقرار رہے گی: طارق فضل چوہدری
ایک نظر میں
- وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کی حیثیت برقرار رہے گی۔
- انہوں نے واضح کیا کہ دارالحکومت میں کوئی نیا صوبہ نہیں بن رہا۔
- اب تجویز ایک میئر کے ماتحت قانون سازی کے اختیارات والی بااختیار اسمبلی پر مرکوز ہے۔
اب تک کی صورتحال
اسلام آباد کا انتظامی مستقبل شدید سیاسی بحث کا موضوع رہا ہے۔ مختلف تجاویز پیش کی گئی ہیں، جن میں سے ایک پہلے مسلم لیگ (ن) کے ڈاکٹر طارق فضل چوہدری سے منسوب تھی جس میں دارالحکومت کو مکمل صوبائی حیثیت دینے کی بات کی گئی تھی۔ دیگر خیالات میں اسے ایک وفاقی اکائی بنانا یا اسے تین میٹروپولیٹن کارپوریشنوں میں تقسیم کرنا شامل تھا۔ بحث میں وسائل کی تقسیم اور مقامی قانون ساز اسمبلی کے امکان پر بات چیت شامل تھی۔
تازہ ترین پیش رفت
وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے واضح کیا ہے کہ ”اسلام آباد میں کوئی نیا صوبہ نہیں بن رہا۔“ انہوں نے کہا کہ دارالحکومت کی حیثیت برقرار رکھی جائے گی، لیکن ایک میئر کے ماتحت قانون سازی کے اختیارات والی ایک بااختیار مقامی اسمبلی کی وکالت کی۔
تازہ ترین اپڈیٹس
وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد میں کوئی نیا صوبہ نہیں بنایا جا رہا اور دارالحکومت کی موجودہ حیثیت برقرار رکھی جائے گی۔
ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ اگرچہ وزیر اعلیٰ کی کوئی ضرورت نہیں ہے، لیکن اسلام آباد اسمبلی کو قانون سازی کے اختیارات دیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے میئر یا لارڈ میئر کے ماتحت ایک بااختیار اسمبلی کی وکالت کی، اور یہ تجویز دی کہ ایک بااختیار بلدیاتی نظام قانون ساز اسمبلی کا متبادل نہیں ہو سکتا۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللہ نے مبینہ طور پر اسلام آباد کی انتظامی حیثیت کے حوالے سے ایک اہم منصوبہ ظاہر کیا ہے، جبکہ کچھ اطلاعات کے مطابق دارالحکومت کا نیا نقشہ بھی تیار کر لیا گیا ہے۔
دارالحکومت کے انتظامی مستقبل کے بارے میں جاری بحث میں، مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے مبینہ طور پر اس بات پر تبصرہ کیا ہے کہ آیا اسلام آباد کو صوبہ بننا چاہیے یا وہاں بلدیاتی نظام ہونا چاہیے، منگل کو میڈیا رپورٹس کے مطابق۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، مسلم لیگ (ن) کے رہنما ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے منگل کو اسلام آباد کو نیا صوبہ بنانے کے مقصد سے ایک مجوزہ مسودے کی تفصیلات ظاہر کی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، ان مذاکرات میں قومی مالیاتی کمیشن (NFC) ایوارڈ فارمولے میں ممکنہ تبدیلیاں شامل ہیں تاکہ صوبائی حیثیت ملنے کی صورت میں دارالحکومت کے لیے وسائل کی تقسیم کا انتظام کیا جا سکے۔ علیحدہ طور پر، رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عدالتوں سے بھی متعلقہ پیش رفت سامنے آئی ہے، تاہم فوری طور پر مخصوص تفصیلات دستیاب نہیں تھیں۔
حکومت کی جانب سے اسلام آباد کو زیادہ انتظامی خودمختاری دینے پر غور کے ساتھ ہی، ایک نئی تجویز سامنے آئی ہے جس میں دارالحکومت کی عوامی خدمات اور انفراسٹرکچر کے لیے فنڈز فراہم کرنے کے لیے رہائشیوں پر مقامی ٹیکس عائد کرنا شامل ہے۔
دستیاب رپورٹس کے مطابق، اس مجوزہ ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو خصوصی طور پر اسلام آباد کی حدود میں ہی جمع اور خرچ کیا جائے گا۔ ان فنڈز کو ہسپتالوں، اسکولوں، فلاحی پروگراموں اور ترقیاتی منصوبوں کو بہتر بنانے کے لیے مختص کیا جائے گا۔
یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے ساتھ اپنے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (EFF) پروگرام کے پانچویں جائزے پر مذاکرات کی تیاری کر رہا ہے۔ اگر اسلام آباد کو ایک خودمختار یونٹ بنا دیا جاتا ہے تو مجوزہ ٹیکس کا طریقہ کار اس کے مالیاتی ڈھانچے کا ایک اہم حصہ بن سکتا ہے۔
توقع ہے کہ ابتدائی تجاویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی جانب سے تیار کی جائیں گی جس کے بعد انہیں اعلیٰ سطحی کمیٹیوں میں پیش کیا جائے گا۔ منظوری کی صورت میں، نیا مقامی ٹیکس ممکنہ طور پر اگلے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں متعارف کرایا جا سکتا ہے۔
8 ستمبر کی رپورٹس کے مطابق، اسلام آباد میں ایک نئے انتظامی نظام کے لیے مالیاتی فریم ورک کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ فریم ورک کی تفصیلات اور یہ کہ یہ کن زیر غور حکومتی تجاویز پر لاگو ہوتا ہے، ابھی تک منظر عام پر نہیں آئی ہیں۔
نئے انتظامی یونٹس کے بارے میں جاری بحث مبینہ طور پر اسلام آباد کے لیے موجودہ تجویز کے ساتھ ساتھ کراچی کو ایک علیحدہ صوبہ بنانے کے امکان کو بھی شامل کرنے کے لیے وسیع ہو گئی ہے۔
اس معاملے پر حالیہ تبصرے میں صحافی حامد میر نے تجویز دی ہے کہ نئے صوبے بنانے پر ریفرنڈم کا امکان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی سیاسی تبدیلی کے لیے ایک 'بڑی قربانی' کی ضرورت ہوگی۔
اسلام آباد کے انتظامی مستقبل کے بارے میں بحث میں تبدیلی آئی ہے، 8 ستمبر کی حالیہ رپورٹس کے مطابق دارالحکومت کو ایک الگ صوبہ بنانے کا منصوبہ اب زیر غور ہے۔ اطلاعات کے مطابق، رانا ثناء اللہ سمیت سیاسی شخصیات نے اس معاملے پر تبصرہ کیا ہے، جس سے توجہ ایک مقامی حکومت سے ہٹ کر مکمل صوبائی حیثیت پر مرکوز ہو گئی ہے۔
وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کی سربراہی میں ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی نے اسلام آباد کے لیے نئے گورننس ماڈل پر اپنی سفارشات کو حتمی شکل دے دی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی تشکیل کردہ کمیٹی نے اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری (ICT) کو اختیارات کی منتقلی کے ساتھ ایک فیڈریٹنگ یونٹ بنانے کی تجویز دی ہے۔
تجویز کے مطابق، وفاقی حکومت قانون و امان اور شہر کی ماسٹر پلاننگ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گی۔
یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب ایک قومی اسمبلی کی کمیٹی نے الگ سے بلدیاتی قانون میں ترامیم کی منظوری دی ہے جس کے تحت دارالحکومت کے لیے تین الگ الگ میٹروپولیٹن کارپوریشنز بنائی جائیں گی، ہر ایک قومی اسمبلی کے حلقے کے لیے ایک۔ یہ واضح نہیں ہے کہ آخر کار کون سا گورننس ماڈل اپنایا جائے گا۔
ہفتے کو دستیاب رپورٹوں کے مطابق، اسلام آباد کے لیے مجوزہ نئے انتظامی ڈھانچے کا روڈ میپ تیار کر لیا گیا ہے۔
یہ منصوبہ، جس کا مقصد وفاقی دارالحکومت کو ایک نیا حکومتی ڈھانچہ دینا ہے، زیر غور تھا اور یہ اس عمل میں تازہ ترین قدم ہے۔ تجویز کے مواد پر کوئی نئی تفصیلات فوری طور پر دستیاب نہیں تھیں۔
اسلام آباد میں نئے انتظامی ڈھانچے کی تجویز پر مزید تفصیلات سے معلوم ہوا ہے کہ مجوزہ اسلام آباد اسمبلی آئینی ترمیم کے بجائے پارلیمنٹ کے ایکٹ کے ذریعے قائم کی جائے گی۔ یہ قانون سازی کا طریقہ وفاقی دارالحکومت کے لیے ایک بااختیار مقامی حکومت بنانے کے لیے وزیراعظم کو پیش کیے گئے منصوبے کا حصہ ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسلام آباد کے لیے ایک علیحدہ انتظامی یونٹ کے قیام کی تجویز کی حمایت کی ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم-پی) کے خالد مقبول صدیقی نے بھی مجوزہ بل پر اپنا ردعمل دیا ہے۔
اسلام آباد کے لیے مجوزہ نئے انتظامی ماڈل کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں، جو وزیراعظم کو پیش کر دیا گیا ہے۔ منصوبے میں تجویز دی گئی ہے کہ مقامی حکومت کے منتخب سربراہ کو وزیر اعلیٰ یا میئر کا عہدہ دیا جا سکتا ہے۔
ایک اہم سفارش کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) سے بڑے اختیارات نئی منتخب حکومت کو منتقل کرنا ہے۔ تجویز میں دارالحکومت کو صوبائی خطوط پر انتظامی اور مالی خود مختاری دینے کا بھی خاکہ پیش کیا گیا ہے، جس میں اپنے قواعد و ضوابط بنانے کا اختیار بھی شامل ہے۔
مجوزہ 27 رکنی اسمبلی میں خواتین کے لیے پانچ اور اقلیتوں کے لیے ایک نشست مخصوص ہوگی۔ ایک چیف سیکرٹری اور چار سیکرٹریز کی سربراہی میں ایک نیا انتظامی ڈھانچہ بھی اس منصوبے کا حصہ ہے جو مختلف محکموں کی نگرانی کرے گا۔
ذرائع اور اپڈیٹس
اسلام آباد میں کوئی نیا صوبہ نہیں بن رہا: طارق فضل چودھری
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) وفاقی وزیر طارق فضل چودھری نے نجی ٹی وی پروگرام میں کہا ہے کہ اسلام آباد میں کوئی نیا صوبہ نہیں بن رہا۔
Islamabad Residents face More Tax Burden under New Autonomy Framework
ISLAMABAD – A major change could be on the horizon for Islamabad as the government weighs making the capital an autonomous…
Another experiment in the offing
THERE is a proposal for a new governance model in the Islamabad Capital Territory (ICT), based on devolution of…
Islamabad New Administrative Model: Chief Minister, 27-Member Assembly, New Powers – EXPLAINED
ISLAMABAD – Islamabad could be heading for major governance shake-up, with proposed new administrative model putting an elected assembly and…
Responses