مرکزی خبر پر جائیں

ڈی ایچ اے جھگڑا: ایس ایس پی کو ذمہ دار ٹھہرانے والی انکوائری رپورٹ ایڈیشنل آئی جی کو ارسال

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: ڈی ایچ اے جھگڑا: ایس ایس پی کو ذمہ دار ٹھہرانے والی انکوائری رپورٹ ایڈیشنل آئی جی کو ارسال
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • انکوائری میں کورنگی کے ایس ایس پی فدا حسین جانوری کو ڈی ایچ اے جھگڑے کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔
  • رپورٹ میں ایس ایس پی کے رشتہ داروں اور ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف نیا مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی گئی۔
  • مکمل شدہ رپورٹ ڈی آئی جی ساؤتھ کی جانب سے ایڈیشنل آئی جی کو بھیج دی گئی ہے۔

اب تک کی صورتحال

ایک سرکاری انکوائری میں کورنگی کے ایس ایس پی فدا حسین جانوری کو کراچی کے ڈی ایچ اے فیز 6 میں پارکنگ تنازع پر ہونے والے جسمانی جھگڑے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ انکوائری میں ایس ایس پی کے رشتہ داروں اور ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی گئی، جبکہ متاثرین کے خلاف ابتدائی ایف آئی آر کو بدنیتی پر مبنی قرار دے کر خارج کرنے کی تجویز دی گئی۔ اب یہ مکمل رپورٹ ڈی آئی جی ساؤتھ نے ایڈیشنل آئی جی کو بھیج دی ہے۔

تازہ ترین پیش رفت

ڈی آئی جی ساؤتھ کی جانب سے مکمل کی گئی باضابطہ انکوائری رپورٹ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس کو ارسال کر دی گئی ہے۔ رپورٹ میں کورنگی کے ایس ایس پی فدا حسین جانوری کو واقعے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

تازہ ترین اپڈیٹس

کراچی کے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) میں ہونے والے جسمانی جھگڑے کی انکوائری رپورٹ، جس میں کورنگی کے ایس ایس پی فدا حسین جانوری کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے، ڈی آئی جی ساؤتھ نے مکمل کر کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس کو بھیج دی ہے۔

انکوائری رپورٹ سے مزید تفصیلات سے معلوم ہوا ہے کہ متاثرین کے خلاف ابتدائی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کو 'بی کلاس' کیس کے طور پر درجہ بندی کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ الزامات کو بدنیتی پر مبنی اور جھوٹا پایا گیا اور کیس کو خارج کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

ذرائع اور اپڈیٹس

GNN

Responses

  1. It’s a relief to see the fact-finding inquiry recommend correcting the initial FIR. This is a crucial step for justice and to show that no one is above the law. Hopefully, the follow-through is just as thorough.

  2. This case shows how important CCTV and social media can be for public accountability. Without the video evidence, would this inquiry have even happened, or would the initial, incorrect FIR have stood?

  3. The recommendation to handle the initial FIR ‘in accordance with the law’ is a specific and correct legal step. It’s not just about dropping a case, but formally acknowledging it was baseless. This sets an important precedent.

  4. Glad the inquiry identified the constable who damaged the CCTV. This isn’t just misconduct; it’s destruction of evidence. Specific charges for this act are essential to ensure transparency in future incidents.

>