مرکزی خبر پر جائیں

پمز میں بچوں کی اموات کا کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے تمام فریقین سے رپورٹس طلب کر لیں

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: پمز میں بچوں کی اموات کا کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے تمام فریقین سے رپورٹس طلب کر لیں
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • اسلام آباد ہائیکورٹ جولائی 2024 میں پمز میں آتشزدگی کے بعد نومولود بچوں کی اموات سے متعلق کیس کی سماعت کر رہی ہے۔
  • درخواست میں اسپتال انتظامیہ پر غفلت کا الزام عائد کرتے ہوئے آزادانہ انکوائری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
  • عدالت نے اب کیس کے تمام فریقین کو رپورٹس جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

اب تک کی صورتحال

اسلام آباد ہائیکورٹ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں جولائی 2024 میں مبینہ آتشزدگی کے واقعے کے بعد نومولود بچوں کی اموات سے متعلق کیس کی جانچ کر رہی ہے۔ عدالت میں دائر درخواست میں غفلت اور مبینہ طور پر شواہد کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا حوالہ دیتے ہوئے اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو ہٹانے اور آزادانہ انکوائری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عدالت اس سے قبل حکومت سے اس معاملے پر رپورٹ طلب کر چکی ہے۔

تازہ ترین پیش رفت

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں نومولود بچوں کی اموات سے متعلق کیس میں ملوث تمام فریقین کو اپنی اپنی رپورٹس جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

تازہ ترین اپڈیٹس

اسلام آباد ہائیکورٹ نے 4 ستمبر کو پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں نومولود بچوں کی اموات سے متعلق کیس میں ملوث تمام فریقین کو اپنی اپنی رپورٹس جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

نئی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ (IHC) میں زیر سماعت مقدمہ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) میں نوزائیدہ بچوں کی اموات سے متعلق ہے، نہ کہ صرف ہسپتال کے نرسنگ ہاسٹل میں لگنے والی آگ سے متعلق جیسا کہ پہلے رپورٹ کیا گیا تھا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں جولائی 2024 کی آتشزدگی سے متعلق کیس میں تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔ حکم نامے میں اس معاملے پر حالیہ سماعت کی عدالتی کارروائی کو باقاعدہ شکل دی گئی ہے۔

ایک نئی پیشرفت میں، 4 ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ (IHC) نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) میں آتشزدگی کے واقعے پر حکومت سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Responses

>