مرکزی خبر پر جائیں

نیپال: تباہ کن سیلاب کے 9 روز بعد 2 مزدوروں کو ٹنل سے زندہ نکال لیا گیا

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: نیپال: تباہ کن سیلاب کے 9 روز بعد 2 مزدوروں کو ٹنل سے زندہ نکال لیا گیا
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • نیپال میں 9 دن بعد ہائیڈرو پاور ٹنل سے دو مزدوروں کو زندہ بچا لیا گیا۔
  • نیپال میں ہلاکتوں کی تعداد 1,250 سے تجاوز کر گئی، 4,200 سے زائد لاپتہ ہیں۔
  • ایک نیپالی اہلکار کا ماننا ہے کہ ترشولی 3 اے سرنگ میں مزید زندہ بچ جانے والے ہو سکتے ہیں۔

اب تک کی صورتحال

نیپال میں 26 اگست کو گلیشیئر ٹوٹنے سے آنے والے تباہ کن سیلاب میں ایک سرنگ میں پھنسنے کے نو دن بعد دو ہائیڈرو پاور ورکرز کو زندہ بچا لیا گیا ہے۔ بچاؤ کے کام میں واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ کرنے والے انجینئرز کے ایک گروپ نے مدد کی۔ نیپال میں اس آفت سے سرکاری طور پر ہلاکتوں کی تعداد 1,250 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ 4,200 سے زائد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ پڑوسی ملک تبت میں 21 ہلاکتوں کی اطلاع ہے اور 541 لاپتہ ہیں۔ ایک نیپالی رکن پارلیمان نے امید ظاہر کی ہے کہ اسی سرنگ کے نظام میں مزید زندہ بچ جانے والے مل سکتے ہیں جہاں اندازاً 900 کارکن پھنسے ہوئے تھے۔

تازہ ترین پیش رفت

ایک نیپالی رکن پارلیمنٹ نے امید ظاہر کی ہے کہ ترشولی 3 اے سرنگ میں مزید افراد زندہ مل سکتے ہیں۔ اس آفت نے پڑوسی ملک تبت میں بھی 21 جانیں لے لی ہیں، جہاں 541 افراد لاپتہ بتائے جاتے ہیں۔

تازہ ترین اپڈیٹس

نیپالی رکن پارلیمان نے بیان دیا ہے کہ ترشولی 3 اے ہائیڈرو پاور منصوبے کی سرنگ میں مزید زندہ بچ جانے والوں کے ملنے کا امکان ہے، جہاں سے حال ہی میں دو افراد کو بچایا گیا ہے۔

دریں اثنا، اطلاعات کے مطابق اس آفت نے پڑوسی ملک تبت میں بھی شدید اثرات مرتب کیے ہیں، جہاں سیلاب کی وجہ سے 21 افراد ہلاک اور 541 لاپتہ ہیں۔

نیپال میں ایک ہفتہ قبل آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد میسجنگ پلیٹ فارم واٹس ایپ پر انجینئرز کا ایک غیر رسمی گروپ ریسکیو آپریشن کی رہنمائی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

یہ گروپ، جو آفت سے پہلے قائم کیا گیا تھا اور اب اس میں 500 سے زائد ماہرین شامل ہیں، تکنیکی ڈرائنگ اور معلومات کا تبادلہ کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ کم از کم چھ تباہ شدہ ہائیڈرو پاور پلانٹس کی سرنگوں میں پھنسے ہوئے زندہ بچ جانے والوں کو تلاش کرنے میں مدد مل سکے۔ اسی کوشش کے نتیجے میں جمعہ کو دو افراد کو کامیابی سے بچا لیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق، حکام چلیمی اور رسواگڑھی ہائیڈرو پاور پلانٹس سمیت کئی مقامات پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں، جہاں درجنوں مزدور اب بھی پھنسے ہو سکتے ہیں۔

نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد ایک ہفتے سے زائد عرصے سے سرنگ میں پھنسے دو ہائیڈرو پاور ورکرز کو جمعہ کو بچا لیا گیا۔

ان افراد کی شناخت 30 سالہ مکینیکل فورمین سنجے شاہ اور 45 سالہ مکینیکل سپروائزر کبیر مہاراجن کے نام سے ہوئی ہے، جنہیں تریشولی 3A ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کی سرنگ سے نکالا گیا۔ وزیر داخلہ سدن گرونگ اور وزیر توانائی بیراج بھکتا شریستھا نے کامیاب ریسکیو کی تصدیق کی۔

26 اگست کو خطے میں مٹی اور ملبے کے تودے گرنے کے بعد سے سینکڑوں دیگر کارکن لاپتہ ہیں۔ متعدد مقامات پر تلاش کا عمل جاری ہے۔

یہ ریسکیو اس وقت عمل میں آیا جب ٹیموں نے سرنگ کے اندر سے ایک ہلکی سی آواز سننے کی اطلاع دی۔ آپریشن میں مشاورت فراہم کرنے والے آسٹریلوی ریسکیو ماہر آرنلڈ ڈکس نے کہا کہ وہ زمینی ٹیموں کی مدد کے لیے نیپال کے راستے میں ہیں۔

نیپال کی ڈیزاسٹر اتھارٹی کے سربراہ نے جمعہ کو رائٹرز کو بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے تباہ کن سیلاب سے املاک، مکانات اور انفراسٹرکچر کو کم از کم 2.56 ارب ڈالر (387.5 ارب نیپالی روپے) کا نقصان پہنچا ہے۔

نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے سربراہ دھرما راج اپریتی نے یہ بھی بتایا کہ پہلے چار مہینوں میں بحالی کے ابتدائی کاموں پر تقریباً 52.6 ملین ڈالر (7.95 ارب نیپالی روپے) لاگت آئے گی۔ اس ابتدائی مرحلے میں سڑکوں کی تعمیر نو، عارضی پناہ گاہوں کی فراہمی، اور پینے کے پانی و بجلی کی بحالی پر توجہ دی جائے گی۔

نیپال-تبت سرحد پر گلیشیئر ٹوٹنے کے تباہ کن واقعے کی وجہ اور پیمانے کے بارے میں نئی تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔ سیٹلائٹ تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ گلیشیئر کا ایک حصہ اونچائی سے ٹوٹا، جس سے برف اور چٹانوں کا ایک بڑا تودا گرا اور ملبے کا بہاؤ شروع ہوا۔ حکام کا اب تخمینہ ہے کہ اس آفت سے 90,000 سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Business Recorder

Two people pulled alive from Nepal hydropower tunnel

KATHMANDU: Two people were pulled out alive on Friday from a tunnel linked to a hydropower station on the Trishuli River, nine days after a ice, rock and mud slide swept through a valley in Nepal, killing more than 1,200 people and displacing tens of

Business Recorder

Nepal flood losses estimated at $2.56 billion, official says

KATHMANDU: Property, housing and infrastructure ​worth at least $2.56 billion (387.5 ‌billion Nepalese rupees) was damaged in the ​Nepal’s catastrophic floods ​last week, the country’s disaster ⁠authority chief ​told Reuters on Friday. In flood-ravag

Business Recorder

Melting into disaster

EDITORIAL: The catastrophe along the Nepal-Tibet border has already moved far beyond the scale of an isolated Himalayan emergency. By Sunday, nearly 800 people had been confirmed dead and more than 3,000 remained missing after a massive glacier colla

Dawn News

Nepal must rebuild thousands of homes, no letup in search for missing

Nepal will have to rebuild around 20,000 houses in flood-ravaged areas, authorities said on Thursday, as rescuers continued to search for workers trapped in tunnels linked to hydropower projects and thousands remain missing after last week’s catastro

Business Recorder

In flood-ravaged Nepal valley nothing is left standing

RASUWA: From the air, the section of Nepal’s Trishuli River valley, where rescuers are trying to reach hundreds of workers trapped in hydroelectric power plants, emerges as an utterly desolate grey expanse. Eight days since the catastrophic flood, th

Responses

    1. Bilkul. This highlights the need for pre-established communication networks for our own disaster response teams. We have many talented people who could form a similar volunteer force.

  1. یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ دو جانیں بچا لی گئیں۔ اللہ تعالیٰ باقی پھنسے ہوئے لوگوں پر بھی رحم فرمائے اور انہیں محفوظ نکالنے میں مدد کرے۔ انجینئرز کی کوششیں قابل تعریف ہیں۔

>