مرکزی خبر پر جائیں

امریکہ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران 82 ویں ایئربورن کی تعیناتی میں توسیع کر دی

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: امریکہ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران 82 ویں ایئربورن کی تعیناتی میں توسیع کر دی
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • امریکہ نے خطے میں اپنی 82 ویں ایئربورن ڈویژن کی تعیناتی 2027 تک بڑھا دی ہے۔
  • ایران کے IRGC نے اس سے قبل اہم عالمی بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔
  • تہران اپنے فوجی اقدامات پر قطر اور اردن کے ساتھ سفارتی تنازع میں ہے۔

اب تک کی صورتحال

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھی جب تہران نے کویت اور متحدہ عرب امارات میں امریکی اثاثوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ بعد ازاں ایران کے پاسداران انقلاب (IRGC) نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال لیا، جس پر امریکہ کو تجارتی جہازوں کا رخ موڑنا پڑا۔ اس بحران نے سفارتی کشیدگی کو بھی جنم دیا، قطر اور اردن نے ایران کے اقدامات پر تنقید کی، جس پر تہران نے سخت ردعمل کا اظہار کیا۔

تازہ ترین پیش رفت

امریکہ نے خطے میں جاری کشیدگی کے جواب میں مشرق وسطیٰ میں اپنی 82 ویں ایئربورن ڈویژن کی تعیناتی میں 2027 تک توسیع کر دی ہے۔

تازہ ترین اپڈیٹس

دستیاب اطلاعات کے مطابق، امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنی 82 ویں ایئربورن ڈویژن کی تعیناتی میں 2027 تک توسیع کر دی ہے۔ یہ اقدام ایران کے ساتھ جوابی حملوں اور آبنائے ہرمز پر تہران کے کنٹرول کے بعد پیدا ہونے والی شدید فوجی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔

قطر اور اردن نے ایران کے حالیہ میزائل حملوں پر تنقید کی ہے، جس سے امریکہ کے ساتھ بڑھتے ہوئے فوجی تنازع کے دوران سفارتی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔

قطر کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ ایرانی میزائل حملوں میں شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان ہوا۔ ترجمان نے کہا کہ قطر تنازع کا حصہ نہیں ہے اور اس کی سرزمین پر حملوں کا کوئی جواز نہیں، اور انہوں نے ایران کے اقدامات کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔

دوسری جانب ایران اور اردن کے درمیان سفارتی تنازع کھڑا ہوگیا۔ اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے ایران کی جوابی کارروائیوں پر تنقید کرتے ہوئے ان کے وقت اور اہداف پر سوال اٹھایا۔ اس کے جواب میں ایران کے قائم مقام وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر ابتدائی امریکی حملوں کے لیے عرب ممالک کی سرزمین استعمال کی گئی اور سوال کیا کہ تہران جارحیت کا جواب دینے کے لیے مزید کتنا انتظار کرے۔

بڑھتے ہوئے تنازع کے دوران، جمعرات کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق امریکہ نے ایرانی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک ہی رات میں 640 ملین ڈالر مالیت کے میزائل فائر کیے۔ اس بڑے خرچ سے خطے میں امریکی افواج کی جانب سے کیے جانے والے دفاعی آپریشنز کی شدت واضح ہوتی ہے۔

امریکی مفادات پر میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد، ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے کویت اور متحدہ عرب امارات میں امریکی اڈوں پر مخصوص اثاثوں کو نشانہ بنایا ہے۔ دعووں کے مطابق، کویت میں احمد الجابر ایئر بیس پر حملوں میں سیٹلائٹ کمیونیکیشن سسٹم، آلات کے گوداموں اور امریکی لڑاکا طیاروں کے ہینگرز کو نشانہ بنایا گیا۔ متحدہ عرب امارات میں، حملوں میں مبینہ طور پر المنہاد ایئر بیس پر امریکی فوجی اہلکاروں کی رہائش گاہوں اور ایک ریڈار سسٹم کو ہدف بنایا گیا۔

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی میں شدت کے درمیان، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے مبینہ طور پر 87 تجارتی بحری جہازوں کا رخ اس علاقے سے موڑ دیا ہے۔

ایک اہم پیش رفت میں، ایران کے پاسداران انقلاب (IRGC) نے مبینہ طور پر آبنائے ہرمز کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ پاسداران انقلاب نے ایک انتباہ بھی جاری کیا ہے کیونکہ خلیج بھر میں امریکی اڈوں پر جوابی حملوں میں شدت آنے کی اطلاعات ہیں۔

جمعرات کو موصولہ اطلاعات کے مطابق، ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت 96 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔

عالمی تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ اس وقت ہوا ہے جب ایران نے خلیجی خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکہ ایران کے ساتھ ایک طویل تنازعے کی تیاری کر رہا ہے، اور اطلاعات ہیں کہ 50,000 امریکی فوجی مشرق وسطیٰ میں تعینات ہیں۔

یہ پیشرفت اس وقت ہوئی جب ایران نے جمعرات، 3 ستمبر کو کویت اور متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اڈوں پر نئے حملوں کا دعویٰ کیا، جس سے حالیہ امریکی حملوں کے خلاف اس کی جوابی کارروائی میں شدت آ گئی ہے۔

ذرائع اور اپڈیٹس

GNN
GNN
Nawai Waqt

ایران کا کویت،یو اے ای میں امریکی اڈوں ،ہائشگاہوں پر میزائلوں،ڈرونز سے حملہ

ایران کا کویت اور امارات میں امریکی اڈوں اور رہائشگاہوں پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ،ا حمد الجابر ایئر بیس میں سیٹلائٹ مواصلاتی نظام، آلات کے گوداموں اور امریکی لڑاکا طیاروں کے ہینگروں کو نشانہ بنایا گیا۔

GNN
Dawn News

Iran attacks US targets despite Trump threats

Iran attacked US military bases in Kuwait on Thursday, despite US President Donald Trump threatening further strikes in a fresh flare-up six months into the war. The new clashes, which began with US raids on Sunday, deepen the ongoing impasse in the

Responses

  1. Very concerning news. It’s important to remember that in these situations, initial reports are often conflicting. We should wait for verified information before drawing conclusions.

    1. It is heartbreaking to read about civilian casualties, especially a child at a wedding. I pray these reports are not true, and for the safety of all innocent people caught in the middle.

>