ایران کے مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر جوابی حملے
ایک نظر میں
- ایران نے اردن، کویت، بحرین اور عراق میں امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔
- یہ حملے ایرانی سرزمین پر حالیہ امریکی حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔
- اردن کا کہنا ہے کہ اس نے بیشتر میزائلوں کو روک دیا؛ امریکی ہلاکتوں کے ایرانی دعوے غیر مصدقہ ہیں۔
اب تک کی صورتحال
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ تنازع کا آغاز ایرانی اہداف پر امریکی حملوں سے ہوا، جس کے بعد ایرانیوں نے امریکی فوجیوں پر جوابی حملے کیے۔ منگل کو مزید امریکی حملوں کے نتیجے میں مبینہ طور پر ایران میں ایک شادی کی تقریب میں شہری ہلاکتیں ہوئیں۔ اس کے جواب میں، بدھ کو ایران نے مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کے خلاف وسیع اور مربوط میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
تازہ ترین پیش رفت
ایران نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں اور مفادات کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے، جن میں اردن، کویت، بحرین اور عراق شامل ہیں۔ تہران نے اس کارروائی کو حالیہ امریکی حملوں کا بدلہ قرار دیا ہے۔
ذرائع اور اپڈیٹس
Iran targets American assets in Middle East after vowing 'severe' consequences for fresh wave of US strikes
Iran pushed ahead with strikes targeting American interests around the Middle East on Wednesday after vowing “severe” consequences to a fresh wave of US attacks . The latest flare-up is part of a cycle of retaliation that followed US strikes on Iran,
ایران کے بحرین، یو اے ای اور کویت میں امریکی اڈوں پر جوابی حملے
تہران: ایران نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائلوں اور ڈرون سے جوابی حملے کر دیئے، پاسداران انقلاب نے متعدد امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایران کا امریکا پر جوابی وار: اردن، بحرین اور عراق میں امریکی اڈے نشانہ
ایران نے امریکا کے خلاف جوابی کارروائی کرتے ہوئے اردن میں امریکی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا، جبکہ بحرین میں بھی امریکی اڈے پر ڈرون داغے گئے، عراق کے شہر اربیل میں بھی امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے۔
Responses