مرکزی خبر پر جائیں

نجی ہسپتال میں علاج کی استدعا مسترد، قیدیوں کو من پسند سہولت کا قانونی حق نہیں: اسلام آباد ہائیکورٹ

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: نجی ہسپتال میں علاج کی استدعا مسترد، قیدیوں کو من پسند سہولت کا قانونی حق نہیں: اسلام آباد ہائیکورٹ
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں کی درخواستیں مسترد کر دیں۔
  • قیدیوں نے نجی ہسپتال میں علاج اور بیرون ملک رابطے کی اجازت مانگی تھی۔
  • عدالت نے فیصلہ دیا کہ قیدیوں کو اپنی پسند کے نجی ہسپتال کا کوئی قانونی حق نہیں۔

اب تک کی صورتحال

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں کی جانب سے دائر درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے، جس میں انہوں نے نجی ہسپتال میں طبی علاج اور بین الاقوامی کالز کی اجازت طلب کی تھی۔ قیدیوں، اویس الطاف، محمد الیاس خان، اور محمد اسماعیل حسین نے یہ درخواستیں بانی پی ٹی آئی کو اسی طرح کی رعایت ملنے کے بعد دائر کی تھیں۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

تازہ ترین پیش رفت

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ قیدیوں کو اپنے علاج کی جگہ کا انتخاب کرنے کا کوئی بنیادی حق حاصل نہیں ہے۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ نجی ہسپتال میں منتقلی کوئی قانونی استحقاق نہیں ہے اور اس پر حکام صرف اسی صورت میں غور کر سکتے ہیں جب سرکاری سہولیات ناکافی ہوں۔

تازہ ترین اپڈیٹس

ایک تفصیلی تحریری حکم نامے میں عدالت نے قرار دیا کہ قید آزادی کو محدود کرتی ہے، لیکن یہ ہر من پسند سہولت کا حق پیدا نہیں کرتی۔ جسٹس محمد آصف نے ریمارکس دیے کہ کسی قیدی کو اپنی پسند کے نجی ہسپتال میں منتقل ہونے کا کوئی قانونی حق نہیں ہے، اور 'ہر تکنیکی سہولت کو بنیادی حق قرار نہیں دیا جا سکتا'۔ فیصلے میں واضح کیا گیا کہ علاج کی بنیادی ذمہ داری سرکاری ہسپتالوں پر عائد ہوتی ہے، اور کسی نجی مرکز میں منتقلی پر حکام صرف اسی صورت میں غور کر سکتے ہیں جب سرکاری نظام میں علاج ممکن نہ ہو۔ یہ درخواستیں قیدیوں اویس الطاف، محمد الیاس خان اور محمد اسماعیل حسین کی جانب سے دائر کی گئی تھیں۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Responses

>