شمالی کوریا کا جوہری طاقت کو مضبوط کرنے کا عزم، امریکی پالیسی کو دشمنی پر مبنی قرار دیا
ایک نظر میں
- شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اس کے جوہری ہتھیار خودمختاری کی 'مکمل ضمانت' ہیں۔
- پیانگ یانگ نے مشترکہ فوجی مشقوں میں کمی کے باوجود امریکہ پر دشمنی پر مبنی پالیسی کا الزام عائد کیا۔
- ستمبر میں امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان کی نئی سہ فریقی مشقوں کا منصوبہ ہے۔
اب تک کی صورتحال
شمالی کوریا نے جوہری تخفیف کے لیے امریکی مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا جوہری ذخیرہ اس کی خودمختاری کی ضمانت ہے۔ پیانگ یانگ کی وزارت خارجہ نے واشنگٹن پر جنوبی کوریا اور جاپان کے ساتھ منصوبہ بند مشترکہ فوجی مشقوں کا حوالہ دیتے ہوئے دشمنی پر مبنی پالیسی برقرار رکھنے کا الزام عائد کیا ہے۔ یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دیگر مشقوں میں کمی اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے ساتھ نئے سربراہی اجلاس کی کوششوں کے باوجود سامنے آیا ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
شمالی کوریا نے پیر کو کہا ہے کہ امریکہ کی دشمنی پر مبنی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور اس نے جوہری تخفیف کے لیے امریکی کالوں کو مسترد کرتے ہوئے اپنی جوہری طاقت کو مضبوط کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکی تنقید اور منصوبہ بند فوجی مشقوں کو واشنگٹن کے محاذ آرائی کے موقف کا ثبوت قرار دیا۔
ذرائع اور اپڈیٹس
North Korea says hostile US policy unchanged, vows to strengthen nuclear force
North Korea said on Monday the United States’ hostile policy remained unchanged and vowed to continue strengthening its nuclear force, rejecting repeated US calls for its denuclearisation. In a statement carried by state media KCNA , a foreign minist
North Korea says hostile US policy unchanged, nuclear arms to keep growing
SEOUL: North Korea said on Monday the United States’ hostile policy remained unchanged and said its nuclear weapons were an absolute guarantee of sovereignty that would continue to be strengthened. A statement from its Foreign Ministry carried by sta
Responses