مرکزی خبر پر جائیں

کسان اتحاد کا ملک میں 32 نئے صوبے بنانے کا مطالبہ

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: کسان اتحاد کا ملک میں 32 نئے صوبے بنانے کا مطالبہ
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • کسان اتحاد کے صدر کا پاکستان میں 32 سے 33 نئے صوبے بنانے کا مطالبہ۔
  • خالد محمود کھوکھر نے نظام کی ناکامی اور بجٹ کی غیر مساوی تقسیم کا حوالہ دیا۔
  • انتظامی اصلاحات کا یہ مطالبہ ملتان میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا گیا۔

اب تک کی صورتحال

ملتان میں ایک پریس کانفرنس کے دوران پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کھوکھر نے ملک میں بڑی انتظامی تبدیلیوں کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے صوبوں کی تعداد چار سے بڑھا کر 33 تک کرنے کا مطالبہ کیا اور تجویز دی کہ ہر انتظامی ڈویژن کو ایک صوبہ بنایا جائے۔ کھوکھر نے اس مطالبے کی وجہ 'تباہ شدہ' نظام، بڑے صوبوں میں خراب گورننس اور بجٹ کی ناانصافی کو قرار دیا، اور جنوبی پنجاب کی مثال دی جسے اس کا واجب الادا حصہ نہیں مل رہا۔

تازہ ترین پیش رفت

پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کھوکھر نے انتظامی بنیادوں پر 32 سے 33 نئے صوبے بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ نظام ناکام ہو چکا ہے۔ ملتان میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ بڑے صوبے کمزور گورننس اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم کا باعث بنتے ہیں۔

ذرائع اور اپڈیٹس

GNN

Responses

>