دادو میں قبائلی تصادم، صوبائی وزیر محمد علی ملکانی کی مذمت
ایک نظر میں
- دادو میں چانڈیو قبیلے کے گروپوں میں تصادم سے آٹھ افراد ہلاک، دو زخمی۔
- تشدد کی وجہ دیرینہ زمینی تنازع اور خونی دشمنی بتائی جاتی ہے۔
- وزیراعلیٰ سندھ اور ایک صوبائی وزیر نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اب تک کی صورتحال
دادو میں چانڈیو قبیلے کے دو مخالف دھڑوں کے درمیان زمینی تنازع پر مسلح تصادم کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔ جھلو تھانے کی حدود میں ہونے والا یہ تشدد حکام کے مطابق ایک جاری خونی دشمنی کا حصہ ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داروں کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے، اور سندھ کے وزیر محمد علی ملکانی نے بھی اس واقعے کی مذمت کی ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
سندھ کے وزیر محمد علی ملکانی نے مہلک تصادم کی مذمت کرتے ہوئے جانی نقصان پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔
تازہ ترین اپڈیٹس
سندھ کے صوبائی وزیر محمد علی ملکانی نے دادو میں ہونے والے واقعے کی مذمت کی ہے جس میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ انہوں نے چانڈیو قبیلے کے دو مخالف گروپوں کے درمیان مسلح تصادم سے ہونے والے جانی نقصان پر دکھ کا اظہار کیا۔
دادو میں ہونے والے مہلک تصادم کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں، جن میں جھگڑے کے فریقین کی شناخت چانڈیو قبیلے کے دو گروپوں کے طور پر ہوئی ہے۔ جھالو تھانے کی حدود میں ہونے والے اس واقعے میں آٹھ افراد ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔
حیدرآباد رینج کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) طارق دھاریجو کے مطابق، یہ تشدد ”دیرینہ دشمنی اور مشترکہ راستے کے استعمال و دیگر زمینی معاملات پر تنازعات“ کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ دو مقتولین کا تعلق سکندر چانڈیو گروپ سے تھا، جبکہ چھ کا تعلق علی اکبر چانڈیو گروپ سے تھا۔
ڈی آئی جی نے بتایا کہ فریقین کے درمیان صلح کی کوششیں ناکام ہو چکی تھیں۔ مبینہ طور پر گزشتہ تین سالوں میں دونوں گروپوں کے درمیان متعدد بار تصادم ہوا، جس کے نتیجے میں اتوار کے واقعے سے قبل ہر فریق کے دو دو افراد ہلاک اور نو زخمی ہوئے تھے۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق، کئی مقتولین متعدد مجرمانہ مقدمات میں مطلوب تھے۔ دادو کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) میر صدام نے بتایا کہ تصادم اتوار کی صبح اس وقت شروع ہوا جب علی اکبر چانڈیو گروپ کے افراد نے مخالف گروپ پر حملہ کیا۔
سکندر چانڈیو گروپ کے مقتولین کی شناخت دیدار علی اور گل بہار کے نام سے ہوئی ہے۔ علی اکبر چانڈیو گروپ کے مقتولین میں فدا حسین، ذوالفقار عرف وطنی، محمد بچل، سلطان، منظور اور ارشد عرف ہجن شامل ہیں۔
سندھ کے وزیر محمد علی ملکانی نے دادو میں ہونے والے مہلک تصادم کی مذمت کی ہے، جس کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ذرائع اور اپڈیٹس
Armed clash between two clans claims 8 lives in Sindh's Dadu
HYDERABAD: Eight individuals were killed while two others were injured in an armed clash between two groups of the Chandio clan in Dadu district in the early hours of Sunday. According to a police report, the feud between the two sides was the result
دادو کے کچے علاقے میں دو گروہوں میں فائرنگ کا تبادلہ، 8 افراد ہلاک
دادو کے کچے علاقے میں دو گروہوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 8 افراد جاں بحق اور 3 زخمی ہوگئے۔
Responses