مرکزی خبر پر جائیں

پمز آتشزدگی: مصطفیٰ کمال پر متاثرین کے دورے کے دوران بدسلوکی کے الزامات

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: پمز آتشزدگی: مصطفیٰ کمال پر متاثرین کے دورے کے دوران بدسلوکی کے الزامات
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں آگ لگنے سے متعدد بچے جاں بحق ہوئے۔
  • وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی اور 50 لاکھ روپے کے امدادی چیک دیے۔
  • اب الزامات سامنے آئے ہیں کہ وزیر نے دورے کے دوران بدسلوکی کی۔

اب تک کی صورتحال

اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں آگ لگنے سے متعدد بچے جاں بحق ہوگئے۔ اس کے بعد وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال اور پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری نے متاثرین کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور ہر ایک کو 50 لاکھ روپے کے سرکاری امدادی چیک دیے۔

تازہ ترین پیش رفت

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال پر تعزیت اور معاوضے کی فراہمی کے دورے کے دوران متاثرین کے اہل خانہ سے بدسلوکی کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ مبینہ واقعے کی تفصیلات واضح نہیں کی گئیں۔

تازہ ترین اپڈیٹس

اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے ہفتے کے روز اپنے دورے کے دوران پمز آتشزدگی کے متاثرین کے اہل خانہ کے ساتھ بدسلوکی کی۔ مبینہ بدسلوکی کی نوعیت واضح نہیں ہے۔ وزیر حکومت کی جانب سے تعزیت اور معاوضے کے چیک فراہم کرنے کے لیے اہل خانہ سے ملاقات کر رہے تھے۔

پمز ہسپتال آتشزدگی کے متاثرین کے اہل خانہ سے ملاقات کے دوران وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 'حکومت اور قوم غم کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔'

ذرائع اور اپڈیٹس

Responses

>