نئے صوبوں کی باتیں پہلے بھی ہوتی رہی ہیں، مولانا فضل الرحمٰن
ایک نظر میں
- جے یو آئی (ف) کے فضل الرحمٰن نے تبصرہ کیا کہ نئے صوبوں کی باتیں پہلے بھی ہو چکی ہیں۔
- بحث کو ایم کیو ایم پاکستان نے دوبارہ شروع کیا جس کی سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت مخالفت کر رہی ہے۔
- آئی پی پی جیسی جماعتیں علیحدہ جنوبی پنجاب صوبے کے لیے مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اب تک کی صورتحال
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال کی جانب سے نئے صوبوں کے مطالبے کے بعد ملک میں ایک نئی قومی بحث جاری ہے۔ اس مطالبے کی سندھ میں پیپلز پارٹی کی زیر قیادت حکومت نے شدید مخالفت کی ہے، جہاں صوبائی اسمبلی نے صوبے کی تقسیم کی کسی بھی تجویز کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔ دریں اثنا، استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) جیسی جماعتیں الگ جنوبی پنجاب صوبے کے لیے مہم چلا رہی ہیں، اور خیبرپختونخوا، ہزارہ اور سرگودھا سمیت دیگر علاقوں میں نئے یونٹس کے لیے عوامی مطالبات کیے جا رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے بھی اس معاملے پر اپنا موقف واضح کیا ہے۔ جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے احتیاط پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی بحثیں نئی نہیں ہیں۔
تازہ ترین پیش رفت
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے نئے انتظامی یونٹس پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ نئے صوبے بنانے کی بحث پہلے بھی ہو چکی ہے۔
تازہ ترین اپڈیٹس
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے جاری قومی بحث پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی باتیں ماضی میں بھی ہوتی رہی ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) نے نئے صوبوں کے قیام پر باضابطہ طور پر اپنے مؤقف کی وضاحت کر دی ہے، پارٹی رہنما بیرسٹر دانیال چوہدری نے جاری قومی بحث کے دوران عوامی سطح پر پارٹی کے مؤقف کو بیان کیا ہے۔
یہ وضاحت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اس معاملے پر سیاسی بحث میں شدت آ گئی ہے، اور مختلف جماعتیں اور شہری گروپس اس پر اپنی رائے دے رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے اس اقدام نے بحث کو ایک نیا رخ دیا ہے، جسے حال ہی میں ایم کیو ایم پاکستان نے دوبارہ شروع کیا تھا اور جس کی سندھ میں پیپلز پارٹی کی زیر قیادت حکومت نے شدید مخالفت کی ہے۔
پاکستان میں نئے انتظامی صوبوں کی تشکیل پر بحث میں وسعت آگئی ہے، 31 اگست کی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے مبینہ طور پر اپنے سابقہ مؤقف سے یوٹرن لے لیا ہے۔ ایک اہم پارٹی اجلاس کی تفصیلات سے اس معاملے پر پارٹی کی پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ ملتا ہے۔
اس بحث میں مسلم لیگ (ن) بھی شامل ہوگئی ہے اور اس کی سرکاری پوزیشن پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، ملک بھر میں عوام کی جانب سے نئے صوبوں کے مطالبے میں شدت آگئی ہے۔ خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، ہزارہ، سرگودھا، چیچہ وطنی اور کراچی میں شہریوں نے بہتر طرز حکمرانی، زیادہ ترقی اور مقامی خوشحالی کے امکانات کا حوالہ دیتے ہوئے اس کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ چیچہ وطنی جیسے کچھ رہائشیوں نے انتظامی معاملات کے لیے لاہور کے سفر سے بچنے کی خواہش ظاہر کی۔
ذرائع اور اپڈیٹس
ماحول اور تیاری نہ ہو تو صوبوں کی تقسیم سے تباہی ہوتی ہے، مولانا فضل الرحمان
جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں اور ان کی تقسیم کا سوال پہلے بھی اٹھتا رہا، صوبے بنتے ہیں لیکن پاکستان میں نہ ماحول ہے نہ تیاری، ماحول اور تیاری نہ ہو تو صوبوں کی تقسیم سے تباہی ہوتی ہے۔
جو نئے انتظامی یونٹ کی مخالفت کرتا ہے وہ ذوالفقار علی بھٹو سے اختلاف کرتا ہے: مصطفیٰ کمال
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان انتظامی یونٹس کی تحریک کا ہراول دستہ ہے، جو نئے انتظامی یونٹ کی مخالفت کرتا ہے وہ ذوالفقار علی بھٹو سے اختلاف کرتا ہے۔
Responses