مرکزی خبر پر جائیں

پمز واقعہ: وزیر صحت کے استعفے کے لیے پیپلز پارٹی کا دباؤ بڑھ گیا

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: پمز واقعہ: وزیر صحت کے استعفے کے لیے پیپلز پارٹی کا دباؤ بڑھ گیا
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • پیپلز پارٹی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
  • یہ مطالبات پمز ہسپتال میں پیش آنے والے واقعے کے بعد کیے جا رہے ہیں جس میں مبینہ طور پر 14 افراد جاں بحق ہوئے۔
  • پی پی پی رہنماؤں پلوشہ خان، سحر کامران اور شرمیلا فاروقی سب نے وزیر کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

اب تک کی صورتحال

اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں پیش آنے والے ایک واقعے کے نتیجے میں مبینہ طور پر 14 ہلاکتوں کے بعد، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) شفاف انکوائری اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ پارٹی نے رہنما پلوشہ خان کے ذریعے خدشات کا اظہار کیا کہ انکوائری رپورٹ کو روکا جا رہا ہے اور شواہد کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جا سکتی ہے۔ پی پی پی نے خبردار کیا ہے کہ اگر اعلیٰ حکام کو بچانے کے لیے نچلے درجے کے ملازمین پر الزام ڈالا گیا تو وہ احتجاج کرے گی۔

تازہ ترین پیش رفت

پیپلز پارٹی کی رہنماؤں سحر کامران اور شرمیلا فاروقی نے بھی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے استعفے کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے حکومت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

تازہ ترین اپڈیٹس

پارٹی کے مطالبات کو آگے بڑھاتے ہوئے، پیپلز پارٹی کی رہنماؤں سحر کامران اور شرمیلا فاروقی نے بھی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے بیانات سے پمز ہسپتال میں پیش آنے والے حالیہ واقعے کے بعد وزیر پر دباؤ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے پمز واقعے کی انکوائری سے متعلق اپنے مطالبات میں شدت لاتے ہوئے اب وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ مطالبہ پارٹی کی جانب سے اسلام آباد کے ہسپتال میں ہونے والی اموات کی انکوائری رپورٹ کو فوری طور پر پبلک کرنے کے پچھلے مطالبات میں ایک اضافہ ہے۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Responses

>