مرکزی خبر پر جائیں

ٹرمپ کا لیک اونٹاریو کا نام بدل کر ‘لیک امریکہ’ رکھنے کا حکم، سفارتی تنازع کھڑا ہو گیا

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: ٹرمپ کا لیک اونٹاریو کا نام بدل کر ‘لیک امریکہ’ رکھنے کا حکم، سفارتی تنازع کھڑا ہو گیا
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لیک اونٹاریو کا نام بدل کر 'لیک امریکہ' رکھنے کا حکم دیا ہے۔
  • کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی اور نیویارک کی گورنر کیتھی ہوکل نے یہ اقدام مسترد کر دیا ہے۔
  • اس فیصلے نے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی کے دوران سفارتی تناؤ کو بڑھا دیا ہے۔

اب تک کی صورتحال

بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی کے دوران، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ مشترکہ اہم آبی گزرگاہ، لیک اونٹاریو کا نام بدل کر 'لیک امریکہ' رکھنے کے حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔ اس اقدام پر فوری طور پر شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے زور دیا کہ جھیل کا نام تاریخی ہے اور اسے تبدیل نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح، نیویارک کی گورنر کیتھی ہوکل نے کہا کہ وہ 400 سال پرانا نام تبدیل نہیں کریں گی۔ یہ تنازع دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان تجارت اور سرحدی پالیسیوں پر موجودہ کشیدگی میں اضافہ کرتا ہے۔

تازہ ترین پیش رفت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لیک اونٹاریو کا نام بدل کر 'لیک امریکہ' رکھنے کے ایک حکم نامے پر دستخط کیے ہیں، اس اقدام کو کینیڈین اور امریکی ریاستی حکام دونوں نے فوری طور پر مسترد کر دیا ہے، جس سے سفارتی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Responses

>