نیپال-تبت سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 469 ہوگئی، سینکڑوں سیاح لاپتہ
ایک نظر میں
- پولیس کا کہنا ہے کہ نیپال-تبت سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 469 ہوگئی ہے۔
- 393 غیر ملکی سیاحوں سمیت 1,400 سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔
- حکام نے گلیشیئر پگھلنے سے بننے والی غیر مستحکم جھیلوں سے نئے سیلاب کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔
اب تک کی صورتحال
نیپال اور چین کے تبت خطے کی سرحد پر گلیشیئر کے ٹوٹنے سے تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ ہوئی۔ ہلاکتوں کی تعداد اب 469 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ سینکڑوں غیر ملکی سیاحوں سمیت 1,400 سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔ پورے کے پورے گاؤں بہہ گئے ہیں، اور بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ حکام نے آفت سے بننے والی دو غیر مستحکم جھیلوں سے بھی خبردار کیا ہے، جو نچلے علاقوں کے لیے سیلاب کا نیا خطرہ ہیں۔
تازہ ترین پیش رفت
نیپال پولیس کے مطابق، نیپال-تبت سرحد پر تباہ کن سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 469 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ 393 غیر ملکیوں سمیت 468 سیاح اور مسافر اب بھی لاپتہ ہیں۔
تازہ ترین اپڈیٹس
جمعہ کو نیپال پولیس کے مطابق، نیپال اور چین کے تبت خطے کی سرحد پر تباہ کن سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 469 تک پہنچ گئی ہے۔
حکام نے یہ بھی بتایا کہ 393 غیر ملکیوں اور 75 نیپالیوں سمیت 468 سیاح اور مسافر اب بھی لاپتہ ہیں۔ لاپتہ افراد کی کل تعداد اب 1,400 سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق لاپتہ افراد میں ایک اسرائیلی شہری بھی شامل ہے۔
نیپال-چین سرحد پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے مزید اطلاعات کے مطابق کئی گاؤں مکمل طور پر بہہ گئے ہیں۔ تباہ کن سیلابی ریلوں نے سڑکوں اور بجلی کے منصوبوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے، جس سے امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔
اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ نیپال اور چین کے تبت کے سرحدی علاقے میں تباہ کن سیلاب کے بعد لاپتہ ہونے والے ایک ہزار سے زائد افراد میں 33 برطانوی شہری بھی شامل ہیں، جن میں ایک 13 سالہ لڑکی اور 14 سالہ لڑکا بھی ہے۔
دستیاب تفصیلات کے مطابق، ایک ٹورازم کمپنی، الپائن ایکو ٹریک، نے بتایا ہے کہ وہ ماؤنٹ کیلاش کے دورے پر گئے 13 سے 65 سال کی عمر کے 12 برطانوی سیاحوں کے ایک گروپ سے رابطہ قائم نہیں کر سکی ہے۔
اس آفت کے جواب میں، برطانوی حکومت نے نیپال کے لیے 50 لاکھ پاؤنڈ کی امداد کی پیشکش کی ہے۔ برطانیہ کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ وہ لاپتہ برطانوی شہریوں کے حوالے سے نیپالی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔
نیپال اور چین کے حکام نے جمعرات کو ہمالیائی خطے کے لیے تازہ انتباہ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس ہفتے کے تباہ کن سیلاب کے ملبے سے بننے والی دو بڑی جھیلیں پھٹنے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
سرحد پر گلیشیئر کے ٹوٹنے سے آنے والی ابتدائی آفت میں کم از کم 362 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ تقریباً 1,000 اب بھی لاپتہ ہیں۔ اب، توجہ ان غیر مستحکم جھیلوں سے پیدا ہونے والے نئے خطرے پر مرکوز ہو گئی ہے۔
نیپال کی ڈیزاسٹر اتھارٹی نے نشیبی علاقوں کے رہائشیوں پر زور دیا ہے کہ وہ 'خصوصی احتیاط' برتیں اور دریا کے کناروں سے دور محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔
سرحد پار، چینی حکام نے خبردار کیا ہے کہ بند ہو جانے والی جھیلوں میں سے ایک میں اگلے تین دنوں میں 30 لاکھ کیوبک میٹر پانی آنے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے پھٹنے کا شدید خطرہ ہے، اور پانی کے بہاؤ کا عروج یکم ستمبر کے قریب متوقع ہے۔ آنے والے ہفتے میں بارش کی پیش گوئی سے اس خطرے میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
Responses