مرکزی خبر پر جائیں

سپریم کورٹ نے نور مقدم کیس میں ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار رکھی

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: سپریم کورٹ نے نور مقدم کیس میں ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار رکھی
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • نور مقدم کے قتل کے جرم میں ظاہر جعفر کی سزائے موت حتمی ہو گئی ہے۔
  • سپریم کورٹ نے جعفر کی آخری نظرثانی کی درخواست مسترد کر کے قانونی کارروائی مکمل کر دی ہے۔
  • عدالت کے تفصیلی فیصلے میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ریاست کی ذمہ داری پر زور دیا گیا ہے۔

اب تک کی صورتحال

27 سالہ نور مقدم کو 20 جولائی 2021 کو اسلام آباد میں ایک رہائش گاہ پر قتل کیا گیا تھا۔ ظاہر جعفر کو موقع سے گرفتار کیا گیا اور بعد میں فروری 2022 میں ٹرائل کورٹ نے سزائے موت سنائی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی جانب سے اپیلیں مسترد ہونے کے بعد، ان کی حتمی نظرثانی کی درخواست بھی خارج کر دی گئی، جس سے سزائے موت قطعی ہو گئی۔

تازہ ترین پیش رفت

سپریم کورٹ نے 12 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے، جس میں نور مقدم قتل کیس میں قانونی عمل کو باضابطہ طور پر مکمل کرتے ہوئے ظاہر جعفر کی سزائے موت کو برقرار رکھا گیا ہے۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Responses

>