پاکستان کی شام میں اسرائیلی فضائی حملے کی مذمت
ایک نظر میں
- پاکستان نے شام کے ابو الظہور ایئربیس پر اسرائیلی فضائی حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
- دفتر خارجہ نے حملے کو 'بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی' قرار دیا ہے۔
- شامی وزیر خارجہ نے اسرائیل سے اپنی پالیسی پر نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ شام کے اتحادی بھی اس میں شامل ہیں۔
اب تک کی صورتحال
اسرائیل نے شام کے ابو الظہور فوجی ایئربیس پر فضائی حملہ کیا، جس کی بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس حملے کو 'بلااشتعال' اور 'بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی' قرار دیتے ہوئے شام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ مبینہ طور پر اس حملے کو خطے میں امریکی پالیسی کے خلاف مزاحمت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور شام کے وزیر خارجہ نے اسرائیل کو اپنے اقدامات پر نظر ثانی کرنے کی تنبیہ کی ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
رپورٹس بتاتی ہیں کہ اسرائیلی حملے کو نئی شامی حکومت کی مدد کے لیے امریکی کوششوں کے خلاف مزاحمت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے حملوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ شام کے اتحادی بھی اس میں شامل ہیں۔
تازہ ترین اپڈیٹس
رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیلی فضائی حملے امریکہ کے خلاف مزاحمت کی علامت تھے، جو ترکی کی حمایت یافتہ نئی شامی انتظامیہ کی مدد کر رہا ہے۔
حملے کے جواب میں، شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے حملوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو شام کے بارے میں اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہیے کیونکہ اس میں اس کے اتحادی بھی شامل ہیں۔
Responses