مرکزی خبر پر جائیں

گوگل نے اسلام آباد میں دفتر کھول دیا، وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: گوگل نے اسلام آباد میں دفتر کھول دیا، وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • گوگل نے اسلام آباد میں دفتر قائم کرکے پاکستان میں باضابطہ طور پر اپنی موجودگی قائم کرلی ہے۔
  • نائب صدر ولسن وائٹ کی سربراہی میں گوگل کے وفد نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔
  • حکومت نے اس اقدام کو ڈیجیٹل تبدیلی اور روزگار کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔

اب تک کی صورتحال

گوگل نے اسلام آباد میں باضابطہ طور پر دفتر کھول کر پاکستان میں اپنی موجودگی قائم کر لی ہے۔ نائب صدر ولسن وائٹ کی سربراہی میں نو رکنی وفد نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔ حکومت نے اس پیشرفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے معیشت کو ڈیجیٹل بنانے اور ملازمتیں پیدا کرنے کے امکانات کو اجاگر کیا ہے۔ گوگل نے فصیح مہتا کو اپنا پہلا کنٹری ہیڈ مقرر کیا ہے اور بتایا ہے کہ وہ پاکستان میں پہلے ہی 350,000 سرٹیفکیٹس تقسیم کر چکا ہے۔

تازہ ترین پیش رفت

اسلام آباد میں اپنے نئے دفتر کے افتتاح کے بعد، گوگل کے نائب صدر ولسن وائٹ کی سربراہی میں نو رکنی وفد نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی تاکہ پاکستان میں کمپنی کے پروگراموں کو وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

تازہ ترین اپڈیٹس

پاکستان میں اپنے دفتر کے باضابطہ افتتاح کے بعد، گورنمنٹ افیئرز اینڈ پبلک پالیسی کے نائب صدر ولسن وائٹ کی قیادت میں نو رکنی گوگل وفد نے اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔ امریکی ناظم الامور نیٹیلی بیکر بھی اس ملاقات میں شریک تھیں۔

ملاقات کے دوران، وزیراعظم نے حکومتی امور اور معیشت کی جاری ڈیجیٹلائزیشن پر روشنی ڈالی۔ جناب وائٹ نے کہا کہ گوگل پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتا ہے اور ملک میں اپنے پروگراموں کو وسعت دینے کا خواہشمند ہے۔

ایک علیحدہ بیان میں، وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ گوگل نے حالیہ برسوں میں پاکستان میں ساڑھے تین لاکھ سرٹیفکیٹس تقسیم کیے ہیں، اور مزید کہا کہ کمپنی کی بڑھتی ہوئی موجودگی سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

گوگل نے 18 اگست کو اسلام آباد میں اپنے دفتر کے باقاعدہ افتتاح کے بعد فصیح مہتا کو اپنے پاکستان مشن کا پہلا سربراہ مقرر کر دیا ہے۔

مسٹر مہتا، جو ایپک گیمز اور ڈیوسنک میں تجربہ رکھنے والے ایک پاکستانی پیشہ ور ہیں، ملک کی ٹیکنالوجی اور ڈیولپر کمیونٹی کے ایک نمایاں حامی رہے ہیں۔ ان کے کام کا مرکز مقامی ٹیلنٹ کو فروغ دینا اور اسٹارٹ اپس اور تخلیق کاروں کو بین الاقوامی منڈیوں سے جوڑنا رہا ہے۔

آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن کی وزیر مملکت شزہ فاطمہ خواجہ نے مسٹر مہتا کو ان کی تقرری پر مبارکباد دی۔ گوگل کے پاکستان مشن کے سربراہ کی حیثیت سے، ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کمپنی کی مقامی سرگرمیوں کو تشکیل دیں گے، ڈیولپرز کی مدد کریں گے، اور پاکستانی ٹیک انڈسٹری کو گوگل کے عالمی پلیٹ فارمز سے جوڑنے میں مدد کریں گے۔

ایک متعلقہ پیشرفت میں، شازہ فاطمہ نے گوگل کے دفتر کے افتتاح کو پاکستان کے ٹیک سیکٹر اور نوجوانوں کے لیے ایک بڑا سنگ میل قرار دیا ہے۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Responses

>