مرکزی خبر پر جائیں

ایرانی مذاکرات رکے ہوئے ہیں لیکن کسی بھی وقت دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: ایرانی مذاکرات رکے ہوئے ہیں لیکن کسی بھی وقت دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات رکے ہوئے ہیں لیکن دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔
  • خطے میں امریکی بحری ناکہ بندی بدستور نافذ ہے۔
  • آبنائے ہرمز کے کنٹرول پر کشیدگی برقرار ہے۔

اب تک کی صورتحال

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھی جب واشنگٹن نے بحری ناکہ بندی نافذ کی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے پابندیاں اٹھانے کے تہران کے مطالبات مسترد کر دیے۔ یہ مطالبات 'اسلام آباد مفاہمتی یادداشت' کا حصہ تھے۔ ابتدائی طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کو مسترد کر دیا تھا، لیکن 19 اگست کو انہوں نے کہا کہ اگرچہ بات چیت رکی ہوئی ہے، وہ کسی بھی وقت دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔

تازہ ترین پیش رفت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگرچہ ایران کے ساتھ مذاکرات فی الحال رکے ہوئے ہیں، لیکن وہ کسی بھی وقت دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں، جو کہ مذاکرات کو مسترد کرنے کے ان کے سابقہ سخت مؤقف سے ممکنہ تبدیلی کا اشارہ ہے۔

تازہ ترین اپڈیٹس

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایران کے بارے میں اپنی انتظامیہ کے مؤقف میں ممکنہ تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ مذاکرات فی الحال رکے ہوئے ہیں، لیکن وہ کسی بھی وقت دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔

یہ آبنائے ہرمز پر شدید کشیدگی اور خطے میں امریکی بحری ناکہ بندی کے دوران تہران کے ساتھ مذاکرات کو مسترد کرنے کے ان کے سابقہ مؤقف سے ایک تبدیلی ہے۔

رپورٹس کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ خطے میں امریکی بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی۔

یہ بیان 60 روزہ مفاہمت کی مدت ختم ہونے کے بعد سامنے آیا ہے اور یہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے پیش کردہ مطالبات کے بعد آیا ہے، جن میں ناکہ بندی اور تیل پر پابندیوں کا خاتمہ شامل تھا۔

ایک نئے بیان میں، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ داخلی انتشار اور اختلافات ملک کو کمزور کرتے ہیں اور بیرونی دشمنوں کو ایران کے خلاف اقدامات کی ترغیب دیتے ہیں۔ انہوں نے ایرانی عوام پر زور دیا کہ وہ قومی یکجہتی کو برقرار رکھیں تاکہ بدامنی اور عدم استحکام پیدا کرنے کی بیرونی سازشوں کو ناکام بنایا جا سکے۔

ایک نئی پیشرفت میں، دستیاب رپورٹوں کے مطابق، ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کو کنٹرول کرنے اور گزرنے کے لیے فیس وصول کرنے کی تجویز دی ہے۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Responses

>