مرکزی خبر پر جائیں

ٹرمپ کا ایران سے ‘سرنڈر’ اور ‘سفید جھنڈا لہرانے’ کا مطالبہ

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: ٹرمپ کا ایران سے ‘سرنڈر’ اور ‘سفید جھنڈا لہرانے’ کا مطالبہ
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • امریکی صدر ٹرمپ نے عوامی سطح پر ایران سے 'سرنڈر' کا مطالبہ کیا ہے۔
  • یہ مطالبہ ٹرمپ کے ایران کی IRGC سے براہ راست رابطے کے دعوے کے بعد سامنے آیا ہے۔
  • ایران ایسے کسی بھی رابطے کی تردید کرتا ہے۔

اب تک کی صورتحال

امریکہ اور ایران کے درمیان مبینہ خفیہ رابطوں پر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ امریکہ نے مبینہ طور پر ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (IRGC) سے رابطہ کرنے کے لیے ایک بیک چینل استعمال کیا، جس کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بعد میں عوامی طور پر تصدیق کی۔ ایران اور IRGC نے مسلسل ایسے کسی بھی رابطے کی تردید کی ہے۔ اب صدر ٹرمپ کی جانب سے عوامی طور پر ایران سے 'سرنڈر' کا مطالبہ کرنے سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔

تازہ ترین پیش رفت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی بیان بازی کو مزید سخت کرتے ہوئے عوامی سطح پر مطالبہ کیا ہے کہ ایران 'سرنڈر' کرے اور 'سفید جھنڈا لہرائے'۔

تازہ ترین اپڈیٹس

17 اگست کی رپورٹس کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عوامی سطح پر ایران سے 'سرنڈر' کرنے اور 'سفید جھنڈا لہرانے' کا مطالبہ کیا ہے، جو کہ بیان بازی میں ایک اہم شدت ہے۔ یہ مطالبہ صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکہ اور ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (IRGC) کے درمیان براہ راست رابطے کی تصدیق کے بعد سامنے آیا ہے، جس کی تہران نے بارہا تردید کی ہے۔

مبینہ خفیہ مواصلات پر جاری تنازع میں تازہ ترین پیش رفت کے مطابق، 17 اگست کی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے بھیجے گئے 'شکست کے پیغام' کو مسترد کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت صدر ٹرمپ کے اس عوامی دعوے کے بعد ہوئی ہے کہ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (IRGC) کے ساتھ براہ راست رابطہ کیا گیا تھا، جس کی IRGC نے تردید کی ہے۔

17 اگست کی رپورٹس کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اب عوامی سطح پر کہا ہے کہ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (IRGC) سے براہ راست رابطہ کیا گیا تھا۔

یہ دعویٰ تہران اور خود پاسداران انقلاب کی جانب سے خفیہ بیک چینل رابطے کے وجود کی سابقہ تردیدوں سے متصادم ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، 17 اگست 2026 کو ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (IRGC) نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی براہ راست رابطے کی تردید کی ہے۔ یہ تردید امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دعوے کے برعکس ہے، جنہوں نے کہا تھا کہ خفیہ رابطے ہوئے تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مبینہ طور پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران کی اسلامی پاسداران انقلاب کور (IRGC) کے ساتھ خفیہ رابطے ہوئے تھے۔

یہ پیشرفت بظاہر بیک چینل کمیونیکیشن لائن کی ان ابتدائی رپورٹوں کی توثیق کرتی ہے جن کی ایرانی حکومت نے پہلے تردید کی تھی۔

17 اگست کو دستیاب معلومات کے مطابق، ایران نے اپنی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (IRGC) اور امریکہ کے درمیان خفیہ بیک چینل رابطوں کی خبروں کی تردید کی ہے۔

یہ تردید ان سابقہ رپورٹس کے بعد سامنے آئی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے سفارتی مذاکرات کے لیے IRGC کی حمایت کی تصدیق کے لیے ایک خفیہ چینل قائم کیا تھا۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Geo News - Youtube
Express News - Youtube

Responses

>