حافظ نعیم کا پیٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر کرنے کا مطالبہ
ایک نظر میں
- پیٹرول کی قیمت میں 4.45 روپے فی لیٹر کا اضافہ، اب 335 روپے فی لیٹر۔
- ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے فی لیٹر کی کمی، اب 335.60 روپے فی لیٹر۔
- حافظ نعیم نے پیٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اب تک کی صورتحال
حکومت نے حال ہی میں پیٹرول کی قیمت میں 4.45 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا ہے، جس سے نئی شرح 335 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے، جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے فی لیٹر کی کمی کر کے 335.60 روپے فی لیٹر کر دیا گیا ہے۔ یہ ایڈجسٹمنٹ، روزانہ کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کا حصہ ہے، جس نے عوامی مایوسی کو جنم دیا ہے، خاص طور پر عالمی تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود۔ شہریوں نے تنخواہوں میں جمود اور بڑھتے ہوئے اخراجات کا حوالہ دیتے ہوئے، قیمت 225 روپے فی لیٹر مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس اضافے سے مہنگائی میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ ایڈجسٹمنٹ پر عوامی غصے کے درمیان، حافظ نعیم نے خاص طور پر مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر کی جائے۔
تازہ ترین اپڈیٹس
حافظ نعیم نے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرول کی قیمت موجودہ شرح سے کم کر کے 225 روپے فی لیٹر کی جائے۔
پیٹرول کی قیمت میں اضافے پر عوامی غصے کے درمیان، شہری مبینہ طور پر مطالبہ کر رہے ہیں کہ قیمت 225 روپے فی لیٹر مقرر کی جائے۔
حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 4.45 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے، جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے فی لیٹر کمی کی گئی ہے۔ پیٹرول کی نئی قیمت 335 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 335.60 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
یہ رد و بدل عالمی منڈی سے منسلک روزانہ قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کا حصہ ہے۔ تاہم، پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر عوام کی جانب سے شدید غصے اور مایوسی کا اظہار کیا گیا ہے، کیونکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث شہری 10 سے 20 روپے فی لیٹر کی بڑی کمی کی توقع کر رہے تھے۔
شہریوں نے اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہوا جبکہ ان کے اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ حکومت کا یہ فیصلہ عام آدمی کی مالی مشکلات سے لاعلمی کا ثبوت ہے۔ قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اتار چڑھاؤ بھی الجھن اور تشویش کا باعث بنا ہوا ہے، بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس طرح کی مسلسل تبدیلیاں پہلے کبھی نہیں دیکھیں۔ اس اضافے سے دیگر اشیاء اور خدمات کی قیمتوں پر بھی اثر پڑنے کا امکان ہے جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔
Responses