ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں بحری راستے کے جغرافیائی نکات پر متفق
ایک نظر میں
- ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں نئے بحری راستے کے جغرافیائی نکات پر متفق ہو گئے ہیں۔
- نیا راستہ بنیادی طور پر ایرانی پانیوں سے گزرے گا۔
- ایران نے راستے کو کھولنے کو امریکی وعدوں کی تکمیل سے مشروط کیا ہے۔
اب تک کی صورتحال
ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں ایک نئے بحری راستے پر بات چیت کر رہے ہیں، ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ گزشتہ 60 سالوں سے جاری انتظام سے مختلف ماڈل قائم کرے گا۔ مجوزہ راستہ زیادہ تر ایرانی پانیوں سے گزرے گا، اور اس کے نفاذ پر موجودہ عارضی راستے بند کر دیے جائیں گے۔ ایران نے آبنائے کو کھولنے کو امریکہ کے اپنے وعدوں کی تکمیل سے مشروط کیا ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
تازہ ترین اپ ڈیٹ کے مطابق ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں نئے بحری راستے کے مخصوص جغرافیائی نکات پر متفق ہو گئے ہیں۔
تازہ ترین اپڈیٹس
ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں نئے بحری راستے کے جغرافیائی نکات پر متفق ہو گئے ہیں۔
ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے آئل ٹینکرز اور تجارتی بحری جہازوں کی آمد و رفت کے حوالے سے مذاکرات مبینہ طور پر حتمی مراحل کے قریب ہیں۔ محفوظ گزرگاہ کے لیے جغرافیائی حدود پر اتفاق رائے ہو گیا ہے، اور توقع ہے کہ ایران خلیج فارس میں داخل ہونے والے جہازوں کی آمد و رفت کے انتظام میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس پیش رفت کو ایران کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تاہم، جہازوں کی واپسی، ان کے معائنے اور ممکنہ ٹول فیس سمیت کچھ اہم مسائل پر ابھی بھی بات چیت جاری ہے۔ عمان جون 2026 سے ان مذاکرات میں ثالثی کر رہا ہے، اور ایک مشترکہ ورکنگ گروپ قائم ہونے کی توقع ہے۔ جولائی کے آخر میں، عمان نے آبنائے ملاکا کے ماڈل پر مبنی ایک علاقائی انتظامی نظام کی تجویز پیش کی تھی، جس میں مکمل ایرانی کنٹرول کے بجائے مشترکہ انتظام، رضاکارانہ فیس اور علاقائی تعاون کی وکالت کی گئی تھی۔ اس اقدام کو وسیع تر امریکہ-ایران مذاکرات کا حصہ سمجھا جا رہا ہے جس کا مقصد جنگ بندی کو مضبوط بنانا، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ختم کرنا ہے۔
ان مذاکرات میں پیش رفت کی اطلاعات کے بعد، جمعرات کو عالمی خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔ برینٹ خام تیل 0.5 فیصد گر کر 79.08 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، اور امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 0.7 فیصد گر کر 74.69 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ مارکیٹ نے مثبت پیش رفت پر ردعمل ظاہر کیا، اور قیمتیں جون میں امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری امن معاہدے کے بعد کی سطح پر واپس آ گئی ہیں۔ سرمایہ کار اب ایک حتمی معاہدے کے منتظر ہیں، جو کامیاب ہونے کی صورت میں توانائی کی قیمتوں میں نمایاں کمی لا سکتا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کے 20 فیصد تیل اور گیس کی نقل و حمل کا ذریعہ ہے۔
آبنائے ہرمز اور باب المندب میں سمندری سیکیورٹی کے حوالے سے ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ، قاسم غریب آبادی کے مطابق، ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے ایک نئے انتظام کے لیے ایک معاہدے کے آخری مراحل میں ہیں۔
جناب غریب آبادی نے کہا کہ نیا معاہدہ گزشتہ 60 سال سے نافذ انتظام سے مختلف ماڈل قائم کرے گا۔ مجوزہ شرائط کے تحت، جہاز رانی کے راستے کا ایک اہم حصہ ایرانی پانیوں سے گزرے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس معاہدے کا مطلب یہ نہیں کہ آبنائے مکمل طور پر کھول دی جائے گی۔ توقع ہے کہ یہ معاہدہ دو سے چار ماہ کی مدت کے لیے کھلا رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جہازوں پر ٹرانزٹ فیس عائد کرنے کا فیصلہ ایران کی قیادت اور امریکہ کے ردعمل پر منحصر ہوگا۔
نائب وزیر خارجہ نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ تہران کو واشنگٹن سے پیغامات موصول ہوئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اپنی ذمہ داریوں پر دوبارہ عمل درآمد کے لیے تیار ہے۔ تاہم، انہوں نے ان ذمہ داریوں کی نوعیت یا پیغامات کے تبادلے کے طریقے کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
اس پیش رفت کے بعد، کچھ اطلاعات کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان آنے والے دنوں میں ایک وسیع تر معاہدہ طے پا سکتا ہے۔
ایران-عمان شپنگ معاہدے کے حوالے سے امریکی صدر ٹرمپ کی مداخلت یا ایران کے ساتھ فون کال کو نمایاں کیا گیا ہے۔
تازہ ترین فیکٹ چیکس
امریکا دوبارہ اپنے وعدوں پر عملدرآمد کیلئے تیار ہو گیا: ایرانی وزارت خارجہ
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ ایران، عمان کے درمیان نئے بحری راستے پر اصولی اتفاق رائے ہو گیا۔
ایران عمان مذاکرات: آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق معاہدے کے مندرجات سامنے آگئے
ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے آئل ٹینکرز اور کمرشل بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے جاری مذاکرات تقریباً طے پاگئے ہیں۔
Responses