پاکستان، ایران کا 10 ارب ڈالر تجارتی ہدف کا اعادہ
ایک نظر میں
- پاکستان اور ایران کا دوطرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف ہے۔
- مشترکہ تجارتی کمیٹی کے 10ویں اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا۔
- تہران نے علاقائی تجارت کے لیے کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں کے استعمال میں دلچسپی ظاہر کی۔
اب تک کی صورتحال
پاکستان اور ایران اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں، دونوں ممالک نے 10 ارب ڈالر کے دوطرفہ تجارتی ہدف کو حاصل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس عزم کا اعادہ اسلام آباد میں پاک-ایران مشترکہ تجارتی کمیٹی کے 10ویں اجلاس کے دوران کیا گیا۔ سرحد پار تجارت کو بڑھانے کے اقدامات، جن میں 24/7 سرحدی آپریشنز، بہتر لاجسٹکس، اور کسٹم طریقہ کار کو ہم آہنگ کرنا شامل ہیں، زیر بحث ہیں۔ خوراک، زرعی مصنوعات، اور کان کنی کی صنعت، خاص طور پر قیمتی پتھروں کی پروسیسنگ جیسے شعبوں میں تعاون بھی توجہ کا مرکز ہے۔ یہ تعلقات، امریکہ-ایران کشیدگی کو کم کرنے میں پاکستان کے ثالثی کردار کی وجہ سے، مزید مستحکم ہوئے ہیں، اور تہران نے کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں کے ذریعے علاقائی تجارت کو وسعت دینے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
اسلام آباد میں پاک-ایران مشترکہ تجارتی کمیٹی کے 10ویں اجلاس کے دوران، پاکستان اور ایران نے 10 ارب ڈالر کے دوطرفہ تجارتی ہدف کو حاصل کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ بات چیت میں امریکہ-ایران کشیدگی کو کم کرنے میں پاکستان کے ثالثی کردار اور تہران کی علاقائی تجارت اور لاجسٹکس تعاون کے لیے کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں کو استعمال کرنے میں دلچسپی کو نمایاں کیا گیا۔
تازہ ترین اپڈیٹس
پاکستان اور ایران نے اسلام آباد میں پاک-ایران مشترکہ تجارتی کمیٹی کے 10ویں اجلاس کے دوران دوطرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ حالیہ مہینوں میں یہ تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں، خاص طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں پاکستان کے تعمیری ثالثی کے کردار کی وجہ سے۔ تہران نے کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں کے ذریعے علاقائی تجارت اور لاجسٹکس تعاون کو وسعت دینے میں دلچسپی ظاہر کی، جو پاکستان کی علاقائی تجارت اور ٹرانزٹ ہب کے طور پر اسٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ سرحدی منڈیوں کو فعال کرنے اور سرحد پار تجارت کو ہموار کرنے کے حالیہ اقدامات سے بھی تجارت کو باقاعدہ بنانے اور مقامی آبادی کے روزگار کو بہتر بنانے کی توقع ہے۔ دونوں فریقوں نے تسلیم کیا کہ خطے میں پائیدار امن اور ایران پر پابندیوں کا بالآخر خاتمہ، خاص طور پر توانائی کے شعبے میں، مزید مواقع فراہم کرے گا، جس سے موجودہ تعلقات کو طویل مدتی اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل ہونا چاہیے۔
پاکستان اور ایران کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کے لیے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری ہیں۔
Responses