ایران تنازعے کے دوران امریکی میزائلوں کی کمی

0:000:00

ایک نظر میں

  • ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تنازع چھٹے مہینے میں داخل ہو گیا ہے۔
  • اطلاعات کے مطابق، امریکی فوج نے میزائلوں کے ذخائر میں کمی کے باعث ایران پر حملے روک دیے ہیں۔
  • ایران آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے عمان کے ساتھ دوطرفہ بات چیت کر رہا ہے۔

اب تک کی صورتحال

ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تنازع 28 فروری کو شروع ہوا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکیاں دی ہیں اور الٹی میٹم جاری کیے ہیں، جبکہ دستیاب اطلاعات کے مطابق امریکی فوج نے اپنے حملے روک دیے ہیں۔ یہ تعطل جدید میزائلوں کے بھاری استعمال اور ان کے ذخائر میں رپورٹ شدہ کمی سے منسلک ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھتے ہوئے اور حملوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسٹریٹجک کامیابی حاصل کر رہا ہے۔ ایران نے عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز سے سمندری گزرگاہ کے انتظام کے حوالے سے دوطرفہ بات چیت بھی شروع کر دی ہے، جس میں امریکہ براہ راست شامل نہیں ہے۔ سعودی عرب نے بھی امریکہ سے ایران کے ساتھ سفارت کاری کی کوشش کرنے کی درخواست کی ہے۔

تازہ ترین پیش رفت

دستیاب اطلاعات کے مطابق، امریکی فوج نے ایران پر اپنے حملے روک دیے ہیں۔ یہ تعطل تنازع کے دوران جدید میزائلوں کے بھاری استعمال سے منسلک ہے، اور کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ واشنگٹن ممکنہ نئی کشیدگی سے قبل اپنے کم ہوتے ذخائر کو بھرنے کے لیے وقت حاصل کر رہا ہے۔

تازہ ترین اپڈیٹس

ایک حالیہ رپورٹ میں امریکی میزائل ذخائر میں بڑی کمی کا انکشاف ہوا ہے، ایک ایسی تفصیل جسے واشنگٹن نے ایران کے ساتھ جاری تنازعہ کے دوران پہلے مسترد کر دیا تھا۔

ذرائع اور اپڈیٹس

ARY News - Youtube
24 News HD - Youtube

Responses

>