پاکستان اور ایران کے وزرائے خارجہ نے علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا

0:000:00

ایک نظر میں

  • ڈپٹی پرائم منسٹر اسحاق ڈار نے 4 اگست کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بات چیت کی۔
  • بات چیت میں علاقائی اور بین الاقوامی امور، بشمول یروشلم اور غزہ پر توجہ دی گئی۔
  • ڈار نے عراقچی کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی۔

اب تک کی صورتحال

ڈپٹی پرائم منسٹر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے منگل، 4 اگست 2026 کو ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ دونوں وزرائے خارجہ نے اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا، جس میں مقبوضہ یروشلم میں بگڑتی ہوئی صورتحال اور غزہ میں جاری بحران پر توجہ دی گئی۔ کال کے دوران، ڈپٹی پرائم منسٹر ڈار نے وزیر خارجہ عراقچی کو جلد از جلد پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی، جس کا مقصد علاقائی اہمیت کے معاملات پر دوطرفہ تعلقات اور تعاون کو مزید بڑھانا ہے۔

تازہ ترین پیش رفت

ڈپٹی پرائم منسٹر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 4 اگست کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی، جس میں علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا اور پاکستان کے دورے کی دعوت دی گئی۔

تازہ ترین اپڈیٹس

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے منگل، 4 اگست 2026 کو ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔

دفتر خارجہ کے ایک بیان کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے درمیان کئی اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ گفتگو میں مقبوضہ بیت المقدس کی بگڑتی ہوئی صورتحال، غزہ کے بحران اور دیگر اہم علاقائی و بین الاقوامی پیش رفت کا احاطہ کیا گیا۔

اس موقع پر نائب وزیراعظم ڈار نے وزیر خارجہ عراقچی کو جلد پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔ مجوزہ دورے کا مقصد دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا اور علاقائی امور پر تعاون کو فروغ دینا ہے۔

ایک امریکی اخبار نے رپورٹ کیا ہے کہ خلیجی ممالک ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پالیسی پر شدید تشویش اور مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں، اور خلیجی ریاستوں نے امریکہ سے سکیورٹی ضمانتوں کا مطالبہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، خلیجی عرب ممالک نے پس پردہ مذاکرات میں ٹرمپ انتظامیہ کی ایران سے متعلق حکمت عملی پر اپنی عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے، اور امریکی پالیسی میں واضح پن کی کمی پر تشویش ظاہر کی ہے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مبینہ طور پر ٹرمپ سے رابطہ کر کے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا، جبکہ متحدہ عرب امارات ایران کے خلاف سخت امریکی کارروائی کی حمایت کرتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب تنازع کے سفارتی حل کو ترجیح دے رہا ہے، اور امریکہ ایران کے ساتھ جنگ کے بعد کویت میں اپنی فوجی موجودگی کم کرنے پر غور کر رہا ہے، اگرچہ کویتی حکام امریکی دفاعی تعاون کو اپنے لیے ناگزیر سمجھتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے فوجی حملے روکنے کے اپنے فیصلے کے بعد کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Responses

>