نادرا اسکینڈل: جعلی شناختی کارڈ جاری کرنے والے اہلکار گرفتار

0:000:00

ایک نظر میں

  • کراچی میں افغان شہریوں کے لیے جعلی شناختی دستاویزات بنانے والے ایک نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا گیا ہے۔
  • نادرا کے اہلکاروں سمیت چار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
  • نیٹ ورک کے دہشت گرد عناصر سے روابط کا شبہ ہے۔

اب تک کی صورتحال

کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے افغان شہریوں کے لیے جعلی شناختی دستاویزات بنانے والے ایک نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا ہے۔ نادرا کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر، ایک نادرا واچ مین، اور ایک نجی ایجنٹ سمیت چار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان پر افغان شہریوں کے لیے جعلی شناختی دستاویزات جاری کرنے، ریکارڈ میں ہیرا پھیری کرنے، اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ اس نیٹ ورک کے بعض دہشت گرد عناصر سے روابط کا شبہ ہے، اور اہم ریکارڈ اور ڈیجیٹل مواد ضبط کر کے تحقیقات جاری ہیں۔

تازہ ترین پیش رفت

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی نادرا اسکینڈل کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے، جہاں کراچی میں افغان شہریوں کو جعلی دستاویزات جاری کرنے کے الزام میں اہلکار ملوث ہیں۔

تازہ ترین اپڈیٹس

افغان شہریوں کے لیے جعلی شناختی دستاویزات بنانے والے نیٹ ورک کی ابتدائی تحقیقات میں نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ نادرا کے ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر فیاض احمد کے لاپتہ ہونے کا مقدمہ کراچی پولیس میں ان کے والد سہیل سانگی کی شکایت پر پہلے ہی درج کیا گیا تھا۔ والد نے شبہ ظاہر کیا تھا کہ 20 جولائی کو فیاض احمد کے لاپتہ ہونے کے بعد نامعلوم افراد نے انہیں اغوا کر لیا تھا۔

آپریشن کے دوران حکام نے اہم ریکارڈ، ڈیجیٹل مواد اور دیگر شواہد قبضے میں لیے ہیں۔ تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے، اور مزید انکشافات اور گرفتاریوں کی توقع ہے۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Dawn News - Youtube
Express News - Youtube

Responses

>