پاکستان نے امریکہ سے 10 ارب ڈالر کی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولت طلب کر لی
ایک نظر میں
- پاکستان نے امریکہ سے 10 ارب ڈالر کی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسیلٹی کی درخواست کی ہے۔
- اس سہولت کا مقصد غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط کرنا اور معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔
- یہ درخواست وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ سے کی۔
اب تک کی صورتحال
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے پاکستان کی اقتصادی اصلاحات میں پیش رفت کا خیرمقدم کیا، اور خود انحصاری اور ترقی کے لیے مسلسل کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی میں سیکرٹری بیسنٹ سے ملاقات کی، جہاں انہوں نے خاص طور پر امریکہ سے 10 ارب ڈالر کی "بیک اسٹاپ سہولت" کی درخواست کی، جس میں پاکستانی روپے پر دباؤ کم کرنے اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانے کے لیے پانچ سالہ مالیاتی انتظام کی تلاش تھی۔ وزیر اورنگزیب نے سیکرٹری بیسنٹ کو پاکستان کی اقتصادی استحکام، جاری اصلاحات، اور برآمدات پر مبنی ترقی کی حکمت عملی کے بارے میں بریفنگ دی، اور علاقائی صورتحال کے معیشت پر منفی اثرات کو بھی اجاگر کیا اور بین الاقوامی سرمائے کی منڈیوں تک بہتر رسائی کے لیے امریکی حمایت کی خواہش کا اظہار کیا۔ دونوں فریقین نے دوطرفہ اقتصادی تعاون کو گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیر خزانہ نے اب مبینہ طور پر اس 10 ارب ڈالر کی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسیلٹی کی باضابطہ درخواست کی ہے، جس میں ذخائر کو مضبوط بنانے اور قرضوں کے دباؤ کو کم کرنے کے طریقہ کار کی تفصیلات بتائی گئی ہیں۔
تازہ ترین پیش رفت
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مبینہ طور پر امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ سے 10 ارب ڈالر کی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسیلٹی کی باضابطہ درخواست کی ہے۔ یہ سہولت، جو پانچ سال کی مدت کے لیے تجویز کی گئی ہے، پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانے اور اس کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے قرضے یا دیگر بیک اسٹاپ میکانزم فراہم کرنے کے لیے ہے۔
تازہ ترین اپڈیٹس
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مبینہ طور پر امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ سے 10 ارب ڈالر کی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسیلٹی کی درخواست کی ہے۔ یہ مجوزہ سہولت، جس کی مدت پانچ سال تک ہوگی، ایک مالیاتی طریقہ کار کے طور پر کام کرے گی جس کے تحت امریکی حکومت، ٹریژری کے ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فنڈ کے ذریعے، پاکستان کو قرضے یا دیگر بیک اسٹاپ سہولیات فراہم کرے گی۔ اس کا مقصد ملک کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط کرنا، قرضوں کے دباؤ کو کم کرنا اور معیشت کو مستحکم کرنے میں مدد کرنا ہے۔ یہ درخواست علاقائی عدم استحکام کے ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، خاص طور پر ایران-امریکہ تنازعہ، جس نے عالمی توانائی منڈیوں کو متاثر کیا ہے اور پاکستان کے درآمدی بل میں اضافہ کیا ہے، جس سے معیشت پر مزید دباؤ پڑا ہے۔
پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے امریکی ایکسِم بینک کے سربراہ سے ایک اہم ملاقات کی۔
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے پاکستان کی اقتصادی اصلاحات کے نفاذ اور بین الاقوامی سرمایہ کاری منڈیوں میں واپسی کے لیے کی جانے والی پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔ بدھ کو جاری ایک بیان میں، امریکی وزارت خزانہ نے پاکستان کے لیے اپنی اصلاحات جاری رکھنے، اقتصادی طور پر زیادہ خود انحصار بننے، ترقی کو فروغ دینے اور اقتصادی لچک کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ تاہم، بیان میں پاکستان کی 10 ارب ڈالر کی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولت کی درخواست کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔
Responses