حوثی دھمکیوں کے باعث سعودی آئل ٹینکرز بحیرہ احمر میں راستہ بدلنے پر مجبور
ایک نظر میں
- حوثی دھمکیوں نے دو سعودی آئل ٹینکرز کو بحیرہ احمر میں راستہ بدلنے پر مجبور کیا۔
- آبنائے ہرمز کے جنوب میں ایک آئل ٹینکر پر حملہ کیا گیا۔
- حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا، جس سے جنگی خطرے کے بیمہ کے اخراجات بڑھ گئے۔
اب تک کی صورتحال
آبنائے ہرمز کے جنوب میں ایک آئل ٹینکر پر حملہ کیا گیا، برطانوی میری ٹائم ایجنسی نے میزائل حملے کی تصدیق کی۔ علیحدہ طور پر، یمن کے حوثی گروپ نے دو سعودی آئل ٹینکرز کو دھمکیاں جاری کیں، جس سے انہیں بحیرہ احمر سے راستہ بدلنے پر مجبور کیا گیا۔ حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا بھی اعلان کیا ہے، جس سے سعودی بندرگاہوں کے لیے جنگی خطرے کے بیمہ کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے سفارتی حل تلاش کر رہا ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
یمن کے حوثی گروپ نے دو سعودی آئل ٹینکرز کو بحیرہ احمر سے راستہ بدلنے پر مجبور کرنے کی دھمکیاں جاری کیں، جو بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات کے درمیان ہے۔
تازہ ترین اپڈیٹس
چین اور بھارت کے لیے سعودی خام تیل لے جانے والے دو آئل ٹینکرز، ژن لانگ یانگ اور روڈوس، نے منگل کو بحیرہ احمر میں یو ٹرن لے لیا۔ یمن کی حوثی ملیشیا کی وارننگ کے بعد، یہ بحری جہاز یمنی ساحل سے گزرنے کے بجائے نہر سویز کی طرف موڑ دیے گئے۔ یہ پیش رفت حوثیوں کی جانب سے پیر کو سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں شپنگ کمپنیوں کو سعودی بندرگاہوں پر کارگو لوڈ یا ڈسچارج نہ کرنے کی دھمکی دی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ خلاف ورزی کی صورت میں انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں، سعودی بندرگاہوں کے لیے جنگی خطرے کے بیمہ کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔
ذرائع اور اپڈیٹس
Two tankers carrying Saudi crude make U-turns in Red Sea after Houthi warning
SINGAPORE: Two oil tankers loaded with Saudi crude for China and India made U-turns in the Red Sea on Tuesday, heading towards the Suez Canal rather than braving the Yemeni coast at the sea’s mouth following a warning from Yemen’s Houthi militia. The
Responses