ایران نے امریکہ اور اسرائیل کو بڑھتی کشیدگی کے درمیان خبردار کر دیا
ایک نظر میں
- ایران نے امریکہ اور اسرائیل کو خبردار کیا ہے۔
- ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔
- امریکی صدر ٹرمپ نے پہلے ایران کو امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانے پر خبردار کیا تھا۔
اب تک کی صورتحال
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ملک کے "آنکھ کے بدلے آنکھ" دفاعی نظریے کو دہرایا ہے۔ یہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے پہلے کے بیانات کے بعد ہے، جنہوں نے امریکہ کے ساتھ "مکمل جنگ کی حالت" کا اعلان کیا تھا۔ صدر پزشکیان نے امریکہ پر معاہدے کی پاسداری نہ کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ ایران کا تنازعہ فوجی اور اقتصادی دونوں محاذوں پر لڑا جا رہا ہے۔ ایران نے امریکہ کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی تجاویز موصول ہونے کی تصدیق کی، اگرچہ اطلاعات کے مطابق ایک مجوزہ معاہدہ مسترد کر دیا گیا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانے کے سنگین نتائج ہوں گے۔ پینٹاگون نے ایک حالیہ واقعے میں سات امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے۔ آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں کی اطلاعات بھی ہیں۔
تازہ ترین پیش رفت
ایران نے خطے میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان امریکہ اور اسرائیل دونوں کو خبردار کیا ہے۔
تازہ ترین اپڈیٹس
ایران نے خطے میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان امریکہ اور اسرائیل دونوں کو خبردار کیا ہے۔
Responses