مرکزی خبر پر جائیں

ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے امریکہ کے ساتھ جنگ بندی ختم ہونے کا اعلان کر دیا

ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے امریکہ کے ساتھ جنگ بندی ختم ہونے کا اعلان کر دیا
0:000:00

اب تک کی صورتحال

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، ایران کے پاسداران انقلاب (IRGC) نے خبردار کیا ہے کہ امریکی فوجی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور ممکنہ ایرانی فوجی کارروائی کے لیے "زیرو آور" کے قریب پہنچ رہی ہے۔ ایران نے امریکہ پر اپنی سرزمین پر متعدد حملوں کا الزام لگایا ہے، جس کے نتیجے میں جانی نقصان اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔ ایران نے جوابی کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے، جن میں شام میں "آپریشن نصر ٹو" اور عمان میں امریکی ریڈار مراکز پر حملے شامل ہیں۔ آبنائے ہرمز کشیدگی کا ایک مرکزی نقطہ بنی ہوئی ہے، جہاں ایران نے کنٹرول کا دعویٰ کیا ہے اور امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی دوبارہ شروع کر دی ہے۔ حال ہی میں، ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر محسن رضائی نے امریکہ کی مبینہ خلاف ورزیوں کے باعث امریکہ-ایران جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کیا ہے اور مزید امریکی حملوں کی صورت میں مکمل جارحانہ کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔

تازہ ترین پیش رفت

ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر اور پاسداران انقلاب (IRGC) کے کمانڈر محسن رضائی نے کہا ہے کہ امریکہ کی متعدد خلاف ورزیوں کے باعث ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی آتش بندی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے ایران میں مزید حملے کیے تو مکمل جارحانہ آپریشن شروع ہو جائے گا۔

تازہ ترین اپڈیٹس

ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر اور پاسداران انقلاب (IRGC) کے کمانڈر محسن رضائی نے کہا ہے کہ امریکہ کی متعدد خلاف ورزیوں کے باعث ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی آتش بندی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن رضائی نے الزام عائد کیا کہ امریکہ نے اس جنگ بندی کا فائدہ اٹھا کر ناکہ بندی نافذ کی، آبنائے ہرمز میں ایران کے قانونی بحری راستے کے باوجود متبادل راستہ قائم کیا، ایرانی سرزمین پر حملوں کے ذریعے ایران کی خود مختاری کی خلاف ورزی کی، اور ایران کے منجمد اثاثے بحال نہیں کیے۔

رضائی نے مزید کہا کہ امریکہ نے اس موقع پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے اور ایران کو اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنے کے لیے یہ اقدامات کیے تھے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے ایران میں مزید حملے کیے تو مکمل جارحانہ آپریشن شروع ہو جائے گا، اور جنگ دفاعی سے جارحانہ حکمت عملی میں بدل جائے گی۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Responses

>