جاری تنازعے کے دوران امریکی فضائی حملوں میں ایران میں 7 پل تباہ ہونے کی اطلاعات
ایک نظر میں
- ایران میں امریکی فضائی حملے مبینہ طور پر چھٹے روز بھی جاری ہیں، جس میں متعدد شہروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
- ایرانی حکام نے 22 جون سے اب تک 38 ہلاکتوں اور 400 سے زائد زخمیوں کی اطلاع دی ہے، جبکہ مزید 11 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔
- امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے فوجی تنصیبات، فضائی دفاع اور سپر ٹینکرز کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی ہے۔
اب تک کی صورتحال
ایران پر امریکی فضائی حملے جاری ہیں، اب مبینہ طور پر چھٹے روز بھی، جن میں اربیل، بندر عباس، بندر خمير اور بوشہر جیسے شہروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ بندر خمير میں دو افراد ہلاک اور نو زخمی ہوئے۔ ایرانی حکام کے مطابق 22 جون سے اب تک امریکی حملوں کے نتیجے میں کل 38 ہلاکتیں اور 400 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
تازہ ترین پیش رفت
نئی رپورٹس کے مطابق امریکی فضائی حملوں میں ایران میں سات پل تباہ ہو گئے ہیں، جس سے خطے میں جاری تباہی میں اضافہ ہوا ہے۔
تازہ ترین اپڈیٹس
ایران پر امریکی فضائی حملے مبینہ طور پر چھٹے روز بھی جاری ہیں۔ علیحدہ طور پر، دستیاب اطلاعات کے مطابق 11 ایرانی ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایران میں امریکی فضائی حملے جاری ہیں، جن میں اربیل، بندر عباس، بندر خمير اور بوشہر جیسے شہروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ بندر خمير میں دو افراد ہلاک اور نو زخمی ہوئے۔ ایرانی حکام کے مطابق، 22 جون سے جاری امریکی حملوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 38 ہلاکتیں اور 400 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
بندر عباس میں، رہائشی عمارتوں، ایک ریلوے اسٹیشن اور ایک پل پر حملے کی اطلاعات ہیں، جس سے نو افراد زخمی ہوئے۔ بندر عباس کے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے بتایا کہ مسلسل چوتھی رات حملے مکمل کیے گئے، جن میں ایرانی فوجی تنصیبات، ساحلی نگرانی کے مراکز، فضائی دفاعی نظام اور لاجسٹکس کو نشانہ بنایا گیا۔ سینٹکام نے خلیج فارس میں ایرانی تیل برآمدی ٹرمینلز کے قریب سپر ٹینکرز پر حملوں کا بھی ذکر کیا۔
وزارت توانائی نے اطلاع دی ہے کہ امریکی حملوں کے بعد جنوبی ایران کے بڑے حصے بجلی سے محروم ہو گئے ہیں۔
جنوبی ایرانی شہروں بوشہر اور اہواز میں زوردار دھماکوں کی اطلاعات ملی ہیں، ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے بوشہر کے مختلف حصوں میں آوازوں کی تصدیق کی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ نے ایران کے خلاف حملوں کے چھٹے مرحلے کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔
امریکی جنگی طیاروں نے مبینہ طور پر ایران شہر ایئرپورٹ پر میزائلوں سے حملہ کیا۔ اس کے علاوہ، بندر خمير میں ایک پل کو مبینہ طور پر امریکی حملے کا نشانہ بنایا گیا، جسے فارس نیوز ایجنسی نے بندر عباس اور لار کو جوڑنے والا ایک اہم راستہ قرار دیا۔ بندر عباس میں ایک اڈے پر مواصلاتی ٹاور کو بھی مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں علاقے میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔ الجزیرہ عربی کے مطابق، بندر عباس سے ابتدائی تصاویر شہر کے مختلف حصوں میں تباہی کے آثار دکھاتی ہیں۔ رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بندر عباس کے ایک علاقے میں امریکی حملے میں سات افراد زخمی ہوئے۔
دریں اثنا، ایران میں زمینی فوج بھیجنے کے حوالے سے امریکہ کے اندر بحث تیز ہو گئی ہے۔ سینیٹر جے ڈی وینس نے امریکی زمینی فوج بھیجنے کی سختی سے مخالفت کی ہے، یہ کہتے ہوئے کہ حکومتوں کو تبدیل کرنے کے لیے فوج بھیجنے کا دور ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حلقے ایران جنگ کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ ایرانی حکام نے اسٹیفن بینن اور جیرڈ کشنر پر ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگایا ہے، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ دونوں افراد مالی فائدے کے لیے مذاکرات کا استعمال کرتے ہیں اور حساس معلومات اسرائیلی دہشت گردی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو لیک کرتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے ان رپورٹس کو ایرانی پروپیگنڈا قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
Responses