صدر ٹرمپ نے ایران کو بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان دوبارہ خبردار کیا
ایک نظر میں
- صدر ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا اور ایران مذاکرات پر آمادہ نہ ہوا تو اگلے ہفتے اس کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
- انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی موجودہ جنگی صلاحیتیں پہلے جیسی مضبوط نہیں رہیں۔
- ٹرمپ نے یہ بھی اشارہ دیا کہ ایران پر حملے جاری رہیں گے جب تک کہ وہ اپنی کارروائیاں روکنے کا فیصلہ نہیں کرتا۔رپورٹس کے مطابق، امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی بحری اثاثوں کو نشانہ بنایا ہے، جس میں…
تازہ ترین پیش رفت: صدر ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو اگلے ہفتے اس کے بجلی گھروں اور پلوں کو تباہ کر دیا جائے گا۔
مرکزی خبر
صدر ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا اور ایران مذاکرات پر آمادہ نہ ہوا تو اگلے ہفتے اس کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی موجودہ جنگی صلاحیتیں پہلے جیسی مضبوط نہیں رہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی اشارہ دیا کہ ایران پر حملے جاری رہیں گے جب تک کہ وہ اپنی کارروائیاں روکنے کا فیصلہ نہیں کرتا۔
رپورٹس کے مطابق، امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی بحری اثاثوں کو نشانہ بنایا ہے، جس میں ایرانی افواج کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا بہانہ بنایا گیا ہے۔ اس کارروائی کا مقصد ایران کی تجارتی جہاز رانی اور شہری فضائی دفاعی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا تھا۔ ان پیش رفتوں کے بعد، ایرانی پارلیمنٹ نے اپنا پہلا اجلاس منعقد کیا، جہاں 200 سے زائد ارکان نے آیت اللہ خامنہ ای کی مبینہ شہادت پر امریکہ کے خلاف جوابی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
پاکستان دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ مذاکرات کی حوصلہ افزائی کے لیے ثالثی کی کوششوں میں سرگرم عمل رہا ہے، ایک ایسا کردار جسے بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا ہے۔ پاکستان نیوز مزید تصدیق شدہ تفصیلات دستیاب ہونے پر اس خبر کو اپ ڈیٹ کرے گا۔
تازہ ترین اپڈیٹس
صدر ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو اگلے ہفتے اس کے بجلی گھروں اور پلوں کو تباہ کر دیا جائے گا۔ انہوں نے ایران میں حکومتی تبدیلی کے امکان کا بھی ذکر کیا۔ یہ وارننگ دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے درمیان سامنے آئی ہے۔
پاکستان نیوز مزید تصدیق شدہ تفصیلات دستیاب ہونے پر اس خبر کو اپ ڈیٹ کرے گا۔
ذرائع: Such News Express News
Responses