ایرانی وزیر خارجہ عمان میں ہرمز مذاکرات کے لیے — ٹرمپ نے جنگ بندی ختم کر دی
اب تک کی صورتحال
11 جولائی 2026 کو امریکہ نے ایران سے فوری طور پر حملے روکنے کا مطالبہ کیا اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے ایک الٹی میٹم جاری کیا۔ امریکہ نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران کو سخت پیغام بھیجا۔ جواب میں، ایران نے بھی امریکہ کو سخت پیغام بھیجا، کیونکہ کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
تازہ ترین اپڈیٹس
اطلاعات کے مطابق عمان میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہو گئے ہیں۔ مزید برآں، ایران کے پاس آبنائے ہرمز کے حوالے سے 60 روزہ حکمت عملی ہے۔
عمان میں جاری سفارتی کوششوں کے درمیان، عباس عراقچی مذاکرات کے لیے ملک پہنچ گئے ہیں۔ تاہم، ایران نے ان مذاکرات کے حوالے سے واضح تردید جاری کی ہے۔
پاکستان نیوز مزید مصدقہ تفصیلات سامنے آنے پر اس خبر کو اپ ڈیٹ کرے گا۔
آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کے حوالے سے ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات فی الحال جاری ہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی ہفتہ، 11 جولائی 2026 کو آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کے حوالے سے بات چیت کے لیے عمان پہنچ گئے۔ واشنگٹن ایران سے آزاد اور محفوظ ٹرانزٹ کے لیے عوامی عہد کا مطالبہ کر رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ اگرچہ امریکہ اور ایران نے بڑھتی ہوئی دشمنیوں کے باوجود بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، لیکن انہوں نے دونوں فریقوں کے درمیان جنگ بندی کے خاتمے کا بھی اعلان کیا۔ اطلاعات کے مطابق، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، اور جیرڈ کشنر عراقچی کے ساتھ مذاکرات کی قیادت کرنے والے تھے۔
ایران نے امریکہ پر عبوری معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے، جس میں منگل کو ایرانی خام تیل کی فروخت کی اجازت دینے والے لائسنس کی منسوخی کا حوالہ دیا گیا ہے۔ مزید برآں، IRGC نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے اسرائیل اور امریکہ کو خبردار کیا ہے۔
Responses