عمران خان کی نجی اسپتال منتقلی: حکومت کی سپریم کورٹ کے فیصلے کی مخالفت
ایک نظر میں
- وفاقی حکومت عمران خان کو نجی اسپتال منتقل کرنے کی سپریم کورٹ کی تجویز کی مخالفت کر رہی ہے۔
- وزیر دفاع خواجہ آصف نے دلیل دی کہ اس سے دیگر سیاسی شخصیات کے لیے ایک مثال قائم ہوگی۔
- اس معاملے نے حکمران اتحاد میں واضح تقسیم کو اجاگر کیا ہے۔
اب تک کی صورتحال
وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کی اس تجویز کی مخالفت کو مستحکم کر دیا ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو طبی علاج کے لیے نجی اسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس موقف کا عوامی طور پر اظہار وزیر دفاع خواجہ آصف نے کیا، جنہوں نے دلیل دی کہ اس سے ایک غیر منصفانہ مثال قائم ہو گی، اور کہا کہ نواز شریف جیسی شخصیات کا علاج سرکاری ہسپتالوں میں کیا گیا تھا۔ یہ بات وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کے پہلے بیان سے متصادم نظر آئی، جنہوں نے کہا تھا کہ حکومت عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کرے گی، تاہم بعد میں انہوں نے کہا کہ حکومت 'وضاحت' طلب کر رہی ہے۔ اس صورتحال پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ 'کچھ گڑبڑ ہے'، جو حکمران اتحاد میں اختلافات کی نشاندہی کرتا ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو طبی علاج کے لیے نجی اسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے ممکنہ فیصلے کے حوالے سے باضابطہ طور پر مخالفت کی ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے عوامی سطح پر اس اقدام کے خلاف دلائل دیتے ہوئے مثال کا حوالہ دیا۔
تازہ ترین اپڈیٹس
وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو طبی علاج کے لیے نجی ہسپتال منتقل کرنے کے ممکنہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر باضابطہ طور پر اپنی مخالفت کا اظہار کیا ہے۔ یہ اقدام وزیر دفاع خواجہ آصف کے پہلے بیانات کے مطابق ہے، جنہوں نے اس منتقلی کے خلاف دلائل دیے تھے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو نجی اسپتال منتقل کرنے کے فیصلے کی مخالفت کر دی ہے، جس سے حکومتی مؤقف میں اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔ اس معاملے پر بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے مؤقف اختیار کیا کہ اس طرح کے اقدام سے تمام قیدیوں کے لیے نجی طبی دیکھ بھال کا مطالبہ کرنے کی مثال قائم ہو جائے گی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ وہ اور نواز شریف سمیت دیگر سیاسی شخصیات کو حراست کے دوران سرکاری اسپتالوں میں علاج فراہم کیا گیا تھا۔ وزیر دفاع نے کہا کہ اگر حکومت کے پاس سپریم کورٹ میں اپنا مؤقف درج کرانے کا موقع ہے تو اسے ایسا کرنا چاہیے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے دور حکومت میں اپنی جماعت کے ساتھ ہونے والے سلوک پر بھی تبصرہ کیا۔
مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور مشیر وزیراعظم رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ حکومت بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کرے گی۔
بدھ کو گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے وضاحت کی کہ حکومت نے نجی ہسپتال سے متعلق فیصلے کے حصے پر عدالت سے ”وضاحت“ طلب کی ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ سماعت کے بعد معاملہ حل ہو جائے گا اور پھر عدالتی حکم پر عمل کیا جائے گا۔ انہوں نے اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے ساتھ اختلافات کی خبروں کو کم اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ اتحادیوں کے درمیان کوئی بھی مسئلہ بات چیت سے حل کیا جاتا ہے۔
تازہ ترین فیکٹ چیکس
خواجہ آصف نے عمران خان کو نجی اسپتال منتقل کرنے کے فیصلے کی مخالفت کردی
وزیر دفاع خواجہ آصف نے عمران خان کو نجی اسپتال منتقل کرنے کے فیصلے کی مخالفت کردی۔
حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرے گی، رانا ثنااللہ
پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ جو رپورٹس عدالت میں پیش کی گئیں ان پر عدالت نے فیصلہ کیا، حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرے گی۔
Responses