سندھ طاس معاہدہ قانونی فریم ورک ہے، آبی تحفظ قومی سلامتی سے منسلک ہے، اسحاق ڈار
ایک نظر میں
- وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک پابند قانونی فریم ورک ہے۔
- بھارت نے 2025 میں یکطرفہ طور پر 1960 کے معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔
- ڈار نے کہا کہ پاکستان کے لیے آبی تحفظ براہ راست اس کی معاشی، غذائی اور قومی سلامتی سے منسلک ہے۔
اب تک کی صورتحال
2025 میں بھارت نے یکطرفہ طور پر 1960 کے سندھ طاس معاہدے (IWT) کے تحت اپنی ذمہ داریاں معطل کرنے کا اعلان کیا، جسے پاکستان نے مسلسل مسترد کیا ہے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا مؤقف ہے کہ یہ معاہدہ ایک درست اور پابند بین الاقوامی قانونی فریم ورک ہے جس میں یکطرفہ معطلی کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کو اس کے حصے کے پانی سے محروم کرنے کی کوئی بھی کوشش علاقائی امن کے لیے سنگین نتائج کی حامل ہوگی، اور اس بات پر زور دیا کہ آبی تحفظ پاکستان کے لیے قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔ ڈار نے عالمی برادری سے اس معاہدے کے تحفظ میں مدد کی اپیل کی ہے، جس کی ضمانت عالمی بینک نے دی ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
واشنگٹن میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سندھ طاس معاہدے کو ایک 'قانونی فریم ورک' قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے لیے آبی تحفظ اس کی معاشی، غذائی اور قومی سلامتی سے جڑا ہوا ہے اور ملک اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تازہ ترین فیکٹ چیکس
سندھ طاس محض ایک معاہدہ نہیں، قانونی فریم ورک ہے، اسحاق ڈار
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سندھ طاس محض ایک معاہدہ نہیں بلکہ قانونی فریم ورک ہے، سندھ طاس معاہدہ علاقائی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے۔
'Profound consequences': Indus Water Treaty must not be weaponised, FM Dar warns India
WASHINGTON: Deputy Prime Minister and Foreign Minister Ishaq Dar on Friday warned that any attempt to deprive Pakistan of waters “rightfully allocated to it” under the Indus Waters Treaty would have “profound consequences for regional peace and secur
Responses