مکہ دفاعی معاہدے میں ممکنہ نئے اراکین کے لیے قیاس آرائیاں بڑھ رہی ہیں
ایک نظر میں
- پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ تشکیل دیا۔
- معاہدے میں اجتماعی دفاع کی شق شامل ہے جس کے تحت ایک پر حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا۔
- اب ایران سمیت دیگر ممالک کے ممکنہ طور پر شامل ہونے کے بارے میں قیاس آرائیاں بڑھ رہی ہیں۔
اب تک کی صورتحال
پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے نام سے ایک اجتماعی دفاعی اتحاد قائم کیا ہے۔ معاہدے کے تحت، کسی ایک دستخط کنندہ پر حملہ سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس معاہدے کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خیرمقدم کیا تھا، اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ یہ دوسرے ممالک کے شامل ہونے کے لیے کھلا ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
ابتدائی طور پر پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان قائم ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں ایران سمیت دیگر ممالک کے شامل ہونے کے امکانات پر قیاس آرائیاں بڑھ رہی ہیں۔
تازہ ترین اپڈیٹس
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے قیام کے بعد، اب ایران سمیت دیگر ممالک کے علاقائی اتحاد میں شامل ہونے کے امکانات پر بحث اور قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ یہ معاہدہ، جس پر ابتدائی طور پر پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نے دستخط کیے تھے، نئے اراکین کے لیے کھلا رکھا گیا تھا۔
مکہ معاہدے کے اعلان کے بعد، اطلاعات کے مطابق ایران کارروائی کر رہا ہے، جبکہ سعودی عرب اور پاکستان اس معاہدے کے جواب میں بڑے فیصلے کر رہے ہیں۔
ایک نئے مشترکہ دفاعی معاہدے، جسے 'معاہدہ مکہ' کہا جا رہا ہے، کا اعلان کیا گیا ہے، جس میں خاص طور پر پاکستان، سعودی عرب اور ترکی شامل ہیں۔ یہ معاہدہ تینوں دستخط کنندہ ممالک میں سے کسی ایک کے خلاف بیرونی جارحیت کو سب پر حملہ تصور کرتا ہے۔
تازہ ترین فیکٹ چیکس
مکہ معاہدے میں مصر کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے: ترک صدر اردوان
ترک صدر رجب طیب اردوان نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مکہ معاہدے میں مصر کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
Responses